رابطئہ مدارس اسلامیہ عربیہ ، تلنگانہ کے زیر اہتمام اس سال پہلی مر تبہ 27 اضلاع کے تقر یبا پچاس مقا مات میں اجتماعی امتحان کا انعقاد عمل میں ایا۔ جس میں تقر یباً 6000چھہ ہزار طلبہُ کرام نے شوق صادق کے ساتھ شر کت کی۔

This year, for the first time, a collective examination was conducted in about fifty locations in 27 districts under the auspices of the Madrasa Islamia Arabia, Telangana. In which about 6000 students participated with great enthusiasm

(اپنا ورنگل)

جگتیال/نظام اباد :
تاثراتِ اجتماعی امتحان رابطۂ مدارسِ تلنگانہ
از محمد عبد الحمید السائح قاسمی ناظمِ مدرسہ معاذ بن جبل ٹرسٹ بودھن رابطۂ مدارسِ اسلامیہ عربیہ، تلنگانہ کے زیرِ اہتمام اس سال پہلی مرتبہ اجتماعی امتحان کا انعقاد عمل میں آیا، جو بحمد اللہ نہایت کامیاب، منظم اور بابرکت ثابت ہوا۔ یہ یادگار اور تاریخی امتحان بتاریخ 20 جنوری 2026ء منعقد ہوا، جس میں تقریباً چھ ہزار طلبۂ کرام نے غیر معمولی محنت، کامل یکسوئی اور شوقِ صادق کے ساتھ شرکت کی۔اس موقع پر طلبہ نے عید کی سی روح پرور کیفیت کے ساتھ یکساں سفید لباس زیبِ تن کر کے نہایت وقار، سنجیدگی اور نظم و ضبط کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اس عظیم اجتماع کا سب سے خوش آئند پہلو یہ رہا کہ اس کے ذریعے بچوں کے دلوں میں حفظِ قرآن کی پختگی، مضبوطی اور شوق میں نمایاں اضافہ ہوا، جو دینی مستقبل کے لیے نہایت امید افزا علامت ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ سال اس مبارک سلسلے میں مزید وسعت پیدا ہوگی اور دس ہزار سے زائد طلبہ اجتماعی امتحانِ حفظ میں شرکت کی سعادت حاصل کریں گے۔


اس تاریخی اور قابلِ فخر دینی اقدام پر صدرِ محترم حضرت مولانا محمد عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے، جن کی سرپرستی، رہنمائی اور خلوصِ نیت کے باعث یہ عظیم الشان کامیابی ممکن ہو سکی۔ اس مبارک پیش رفت پر بـے حد مسرت اور قلبی اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے۔ضلع نظام آباد میں ضلعی صدر حضرت مولانا خضر احمد خان قاسمی صاحب اور ناظمِ امتحان حضرت مولانا عبد القیوم شاکر قاسمی صاحب نے بودھن کے مرکز مدرسہ معاذ بن جبل ٹرسٹ میں نہایت توجہ، حکمت اور محنتِ شاقہ سے اعلیٰ معیار کے انتظامات فرما کر اس امتحان کو حسنِ انتظام کی روشن مثال بنا دیا۔
امتحان کے دوران حیدرآباد سے تشریف لانے والے اکابرین میں حضرت مولانا عبد الرحمن محمد میاں صاحب (بنڈلہ گوڑہ) اور حضرت مولانا زکریا فہد قاسمی صاحب کی باوقار موجودگی نے اس اجتماع کے حسن اور وقعت میں مزید اضافہ کیا۔


اسی طرح مقامی علماء، مشائخ، حفاظِ کرام اور معزز شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت فرما کر اس دینی اجتماع کو رونق بخشی، جن میں بالخصوص:
بودھن کے اسماء گرامی یہ ہیں

الحاج حافظ محمد غیاث الدین صاحب،
حافظ محمد محسن خان صاحب،
مفتی جنید قاسمی صاحب،
مولانا شہباز خان قاسمی صاحب،
مفتی صلاح الدین قاسمی صاحب،
حافظ ضمیر صاحب،
مولانا الیاس قاسمی صاحب،

حافظ محمد انور صاحب،
حافظ ابراہیم صاحب (اعظم گنج)،
حافظ ابراہیم صاحب (رحمت مسجد)،
حافظ معین صاحب (آپٹیکل)،
اور حافظ عامر صاحب شامل ہیں۔

تعلقہ بودھن کے علماء کرام کے چند نام یہ ہیں ۔
مفتی مدثر خان صاحب (پیپر مل)،
مفتی محمد انصار قاسمی صاحب (کوٹ گیر)،
حافظ محمد صاحب (بلولی)،
حافظ عبد الملک صاحب (شکر نگر)،
مولانا انصار صاحب (سریج کھوڑ)،
حافظ افضل صاحب (کنداکرتی)،
حافظ عبد القدوس صاحب (ایڈپلی)،۔
مزید برآں اس بابرکت موقع پر عابد ایڈوکیٹ صاحب، پاشاہ محی الدین صاحب (صدر، کانگریس پارٹی)، معین صاحب (انجینئر، سی ٹی بلڈر)، جمیل پٹیل صاحب (کوپرگاؤں)، میراں صاحب (صدر، پوتنگل) کی شرکت بھی باعثِ تقویت و مسرت رہی۔
آخر میں مدرسہ معاذ بن جبل ٹرسٹ کے اساتذۂ کرام مولانا عبدالعظیم صاحب، حافظ فیروز خان صاحب، حافظ حمزہ صاحب، حافظ مبین صاحب (مدھول)، حافظ صدیق فاروق صاحب، قاری عبادالرحمٰن صاحب، حافظ جنید صاحب، حافظ نصیر صاحب اور حافظ آصف صاحب کی خلوص پر مبنی خدمات قابلِ صد تحسین ہیں، جنہوں نے مہمانوں کے طعام و قیام کا نہایت خوش اسلوبی سے شاندار انتظام فرما کر حسنِ میزبانی کی بہترین مثال قائم کی۔

News Source : Syed Ghouse