پرکل میں صحافیوں کے خلاف ایم ایل اے ریوری پرکاش ریڈی کے نازیبا الفاظ، احتجاجی دھرنا اور نعرہ بازی۔

MLA Revuri Prakash Reddy’s abusive words, protest sit-in and sloganeering against journalists in Parkal

(اپنا ورنگل)

پرکل :

پرکل کے ایم ایل اے ریوری پرکاش ریڈی نے مقامی صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر صحافی برادری نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔جمعرات کے روز ایم ایل اے ریوری پرکاش ریڈی مقامی عہدیداروں کے ہمراہ بس اسٹینڈ کے قریب تجاوزات ہٹانے کے عمل کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ اس موقع پر مقامی صحافیوں نے ٹریفک مسائل کی جانب ایم ایل اے کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی تو وہ برہم ہوگئے اور سخت لہجے میں کہا، ’’تم صحافی ہو تو کیا؟ کس کے وکیل بن کر بول رہے ہو؟‘‘ صحافیوں نے جواب میں کہا کہ ’’ہم عوام کی آواز بن کر بول رہے ہیں‘‘ تو ایم ایل اے مزید غصے میں آگئے۔

اس واقعہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے صحافیوں نے موقع پر کوریج روک دی اور احتجاجاً وہاں سے چلے گئے۔بعد ازاں صحافیوں کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سینئر صحافی سُنیندر، نیرڑلا پرشو رام، بلے راو بابجی، راولا راجو، برا تروپتی، داسری رمیش، سمنتھ اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے ایم ایل اے کے نازیباالفاظ کو غیر جمہوری اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا صحافیوں کا فرض ہے، مگر عوامی نمائندہ ہوتے ہوئے ایم ایل اے کا اس طرح کا رویہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

صحافیوں نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر ہم کسی کے وکیل ہیں تو آپ بس اسٹینڈ کی آہنی باڑ ہٹانے کے لیے کس کے وکیل ہیں؟‘‘اجلاس کے بعد تمام صحافیوں نے پرکل بس اسٹینڈ چوراہے پر زبردست دھرنا منظم کیا۔ ’’ایم ایل اے ریوری پرکاش ریڈی معافی مانگو‘‘ کے نعرے بلند کیے گئے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری اس دھرنے کے باعث ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بعد ازاں سی آئی کرانتی کمار نے موقع پر پہنچ کر صحافیوں سے بات چیت کی اور انہیں دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا۔

اس احتجاجی پروگرام میں کوگیلا چندرا ماؤلی، سری راموجو وینو، گوڈیلی ناگندر، گوڈیلی کارتک، ایلی وجے، بوج سری نیواس ریڈی، چِرّا ستیش، ستیم، سری نیواس، اشرف، راجو، شیوا، پاشاہ، عبداللہ، رمیش، وینکٹیش اور دیگر صحافیوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

News Source : M.F. Baig Riaz