Silence on SIR in Warangal — a dangerous apathy
(اپنا ورنگل)
ورنگل :
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ورنگل میں ایس آئی آر جیسے اہم اور حساس مسئلے پر جس سنجیدگی، بیداری اور اجتماعی شعور کی ضرورت تھی، وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ یہی صورتحال اس سے قبل امید پورٹل کے معاملے میں بھی دیکھی گئی، جہاں طویل عرصہ تک مکمل خاموشی اختیار کی گئی اور پھر آخری دنوں میں محض رسمی سرگرمیاں انجام دے کر اپنا نام درج کرانے کی کوشش کی گئی۔ عوام کا اعتماد ہمیشہ ان تنظیموں پر ہوتا ہے جو وقتِ ضرورت میدانِ عمل میں نظر آئیں، نہ کہ صرف بیانات، جلسوں اور جلوسوں تک خود کو محدود رکھیں۔ بدقسمتی سے آج بہت سی تنظیمیں اسی حد تک سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ اصل عملی میدان میں ان کی کارکردگی نہایت کمزور اور غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
جب ایسے حالات ہوں تو یہ سوال فطری ہے کہ عوام آخر کن بنیادوں پر ان تنظیموں پر بھروسہ کریں؟ اگر مسائل کے آغاز میں آواز بلند نہ کی جائے، شعور بیداری کی کوئی منظم کوشش نہ ہو اور زمینی سطح پر عوام کی رہنمائی نہ کی جائے تو پھر محض آخری لمحات کی سرگرمیاں کس کے لیے اور کس مقصد کے تحت ہوتی ہیں؟ خصوصاً اس وقت جبکہ تلنگانہ میں ایس آئی آر کا انعقاد ہونے والا ہے، اس کے آنے سے قبل عوام میں شعور بیدار کرنا نہایت ضروری ہے۔ لوگوں کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ایس آئی آر کی اہمیت کیا ہے، اس کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے اور اس حوالے سے ان کے حقوق و ذمہ داریاں کیا ہیں۔
یہ کام جلسوں کی حد تک نہیں بلکہ گلی محلوں، مساجد، تعلیمی اداروں اور سماجی پلیٹ فارمز پر مسلسل اور سنجیدہ محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تنظیموں سے سوال کریں اور جواب طلب کریں۔ اگر تنظیمیں صرف وقتی شہرت اور نام نمود کے لیے سرگرم ہوں گی تو اعتماد مجروح ہوگا۔ اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب تنظیمیں مستقل، شفاف اور عملی جدوجہد کو اپنا شعار بنائیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ نعروں سے آگے بڑھ کر حقیقی خدمت، منظم منصوبہ بندی اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تنظیمیں مساجد کے منبروں اور محرابوں کے ذریعے مسلسل رہنمائی کریں، جمعہ و جماعت کے مواقع پر عوام میں شعور بیدار کریں اور محض مرکزی پروگراموں پر اکتفا نہ کریں۔
اسی طرح محلّہ سطح پر مضبوط رابطہ نظام قائم کیا جائے، چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں اور ذمہ دار ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو گلی محلّوں میں جا کر عوامی مسائل سنیں اور رہنمائی فراہم کریں۔ خصوصاً خواتین تک پہنچنے کے لیے الگ اور باوقار ٹیمیں بنائی جائیں تاکہ وہ بھی براہِ راست آگاہی حاصل کر سکیں اور اپنے مسائل اعتماد کے ساتھ سامنے رکھ سکیں۔ جب تک تنظیمیں عوام کے درمیان رہ کر، زمینی سطح پر، منظم اور مسلسل کام نہیں کریں گی، اس وقت تک اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔ عملی موجودگی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے عوام اور تنظیموں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو سکتا ہے، ورنہ یہ فاصلہ دن بہ دن مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔
(حافظ محمد فضل الرحمٰن واجد)

