انسانیت ابھی زندہ ہے! سرد رات میں ورنگل کےمحمد جانی کا دل چھو لینے والا عمل۔

Humanity is still alive! The heart-touching act of Muhammad Jani of Warangal on a cold night

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

اینو مامولا مارکیٹ کے بالاجی نگر سرکل کے قریب ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ پیش آیا، جو انسانیت کی حقیقی تصویر بیان کرتا ہے۔ محمد جانی جو اسی علاقے کے سرگرم سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں، رات کے وقت وہاں سے گزر رہے تھے کہ سڑک کنارے چند ننھے بچے چادر کے بغیر سردی سے کانپتے نظر آئے۔ یہ منظر دیکھتے ہی اُن کا دل پگھل گیا۔محمد جانی فوراً کمبلیں لاکر ان معصوم بچوں کو اوڑھائیں تاکہ وہ سخت سردی سے بچ سکیں۔

اس کے بعد انہوں نے بچوں کے والدین سے بات چیت کی، اُن کی حالتِ زار معلوم کی، اور ان کو یقین دلایا کہ”آپ لوگوں کو جب بھی ضرورت ہو، بلا جھجک مجھے فون کیجیے میں مکمل کوشش کروں گا کہ آپ کی مدد ہو سکے۔”جانی نے نہ صرف ان کا نمبر دیا بلکہ وعدہ کیا کہ جن حالات میں یہ لوگ گزر بسر کر رہے ہیں، ان کے لیے ایک عارضی ٹھکانہ  ایک محفوظ مکان   بھی جلد قائم کیا جائے گا تاکہ بچے موسم کی صعوبتوں سے محفوظ رہ سکیں۔اس موقع پر ایس آر نگر مائناریٹی کمیٹی کے اراکین محمد مختار، محمد یوسف، نلا مہیش ابھلاش اور مقامی سماجی کارکنوں نے بھی موجود تھے ۔

اور جانی کی اس نیک پہل کو سراہا۔ مقامی عوام نے بھی ان کے جذبۂ ہمدردی اور خدمتِ خلق کے لیے بھرپور داد دی۔یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر معاشرے میں چند دل ایسے موجود ہوں جو دوسروں کے دکھ کو اپنا درد سمجھیں، تو انسانیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

News Source : M.F. Baig Riaz