ورنگل میں دیکشا دیوس تقریب،ورنگل مشرقی سابق رکن اسمبلی نَنّپو نینی نریندر کی شرکت۔

Deeksha Diwas Programme in Warangal, Chief Guest  Warangal East Ex- MLA N. Narender

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

پوچمّا میدان چوراہے پر منعقدہ "دیکشا دیوس” پروگرام میں ورنگل مشرقی کے سابق رکن اسمبلی نَنّپو نینی نریندر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کے دوران ہوئی قربانیوں، احتجاجی پروگراموں اور عوامی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔نریندر نے کہا کہ 2009 میں کے سی آر کی "آمرن دیکشا” تلنگانہ تحریک میں سنگِ میل ثابت ہوا۔

اس دیکشا نے عوام کے اندر نئی روح پیدا کی اور یہی ریاست کے قیام کی بنیاد بنی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گیارہ دنوں تک تلنگانہ کے عوام کے سی آر کے ساتھ ایک آواز میں کھڑے رہے، جو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی رکاوٹوں اور گرفتاریوں کے باوجود کے سی آر کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی، جس سے تحریک کو مزید توانائی اور مضبوطی حاصل ہوئی۔ نریندر نے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ، خاص طور پر سری کانتھا چاری کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت تلنگانہ کے عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ 9 دسمبر 2009 کا دن ایک تاریخی لمحہ تھا جب مرکز نے تلنگانہ کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا، مگر بعد ازاں کانگریس نے اپنی بات سے انحراف کیا اور عوام کے ساتھ دھوکہ کیا۔ تاہم عوام، طلبہ، ملازمین، کسانوں اور خواتین کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں 2 جون 2014 کو تلنگانہ ریاست کا قیام ممکن ہوا، اور اس کامیابی کا سہرا کے سی آر کی قیادت کے سر جاتا ہے جنہوں نے عوام میں اعتماد پیدا کیا۔نریندر نے کہا کہ "دیکشا دیوس” تلنگانہ کی روح اور وقار کی علامت ہے، اور اس دن کی یاد منانا نئی نسل کو قربانیوں کی داستان سے روشناس کراتا ہے۔

آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے کارکنان، بی آر ایس کارکنوں اور اپنے حامیوں کو وہ تحفظ فراہم کریں گے اور آئندہ دنوں میں انہیں مناسب عہدوں پر فائز کرنے کی کوشش کریں گے۔تقریب میں ورنگل مشرقی کے مختلف وارڈوں کے کارپوریٹرز، سابق کارپوریٹرز، ڈویژن صدور، انچارج، خواتین رہنما، نوجوان قائدین، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔

News Source : M.F. Baig Riaz