Severe shortage of 10 and 20 rupee notes across the country,Public and traders worried
(اپنا ورنگل)
ملک بھر میں 10 اور 20 روپے کے چھوٹے نوٹوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث کاروباری حضرات اور چھوٹے تاجر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف تلگو ریاستوں تک محدود ہے بلکہ پورے ہندوستان کے دیہی و شہری علاقوں میں محسوس کیا جارہا ہے۔ کاروبار میں لین دین کے لئے چھوٹے نوٹوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، خاص طور پر متوسط طبقے، غریب عوام اور چھوٹے تاجروں کے لئے۔
اس وقت آر بی آئی بڑے پیمانے پر 10 اور 20 روپے کے سکے جاری کر رہا ہے۔ دوسری جانب، UPI اور دیگر ڈیجیٹل لین دین کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں، مگر دیہی اور کم آمدنی والے طبقے اب بھی بڑی حد تک نقد ادائیگیوں کے عادی ہیں اور اس قلت سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔
آر بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق 31 مارچ 2025 تک زیر گردش 2، 5، 10 اور 20 روپے کے نوٹوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے کم ہوئی ہے، جب کہ 50، 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکٹ میں نوٹوں کی اس قلت کے پیش نظر 10 اور 20 روپے کے سکوں کا چلن کئی علاقوں میں بڑھ گیا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ پچھلے دو سال سے یہ مسئلہ درپیش ہے اور اگر بینکس بڑے پیمانے پر سکے فراہم کریں تو مسئلہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس قلت نے نوٹوں کے بنڈلوں پر ناجائز کمیشن کو جنم دیا ہے—10 روپے کے نوٹ کے بنڈل پر 400 روپے اور 20 روپے کے بنڈل پر 500 روپے اضافی کمیشن وصول کیا جارہا ہے، جو تاجروں اور عوام کے لئے مزید بوجھ بن گیا ہے۔
News Source : Agency

