Weavers are not in a good situation. Congress government has put a stop to subsidies: K Kavita
(اپنا ورنگل)
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جنم باٹا یاترا کے تحت ونپرتی اور کوتہ کوٹہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور ہینڈلوم ورکرس، مقامی عوام اور تالاب کے متاثرہ خاندانوں کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر کویتا نے کہا کہ تہذیب کا یہ معیار ہے کہ انسان کپڑا پہنتا ہے، مگر افسوس کہ اسی کپڑے کو بننے والے کاریگر خود انتہائی کربناک زندگی گزار رہے ہیں۔ صرف تلنگانہ ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں ان کی حالت تشویشناک ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر نے انہیں پنشن اور دھاگہ پر سبسیڈی فراہم کی تھی، مگر کانگریس حکومت کے آنے کے بعد یہ سبسیڈی روک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہینڈلوم ورکرس کے خاندان کے ایک فرد کو پیشہ ورانہ پنشن کے ساتھ ساتھ عام پنشن بھی ملنی چاہئے۔انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ساڑیاں بننے کے باوجود انھیں اپنا کاروبار چلانے کا موقع نہیں ملتا، جس کے باعث کئی کاریگر مزدوری پر مجبور ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر زیر التواء سبسڈیاں جاری کرے، بافندوں کے لئے قرضوں کی سہولت فراہم کرے اور اس فن کو نئی نسل تک پہنچانے کے لئے عملی تعاون کرے، ورنہ یہ پیشہ اور صدیوں پرانا فن ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مناسب معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو اس پیشہ میں لانے سے ہچکچا رہے ہیں، حالانکہ اگر حکومت مدد کرے تو آج انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ یہ کاریگر اپنے تیار کردہ کپڑے فروخت کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات میں سب سے بڑی تعداد پدماشالی برادری کی بتائی جاتی ہے، لیکن افسوس کہ کسی بھی بڑی سیاسی پارٹی نے انہیں کبھی مناسب اہمیت نہیں دی اور نہ ہی کوئی نمایاں عہدہ دیا۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں پدماشالی برادری کو ترجیح دیں اور پسماندہ طبقات کو سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ آئینی بنیادوں پر ریزرویشن فراہم کریں تاکہ وہ اپنے مسائل حکومت کے سامنے موثر طور پر رکھ سکیں۔ انہوں نے ہینڈلوم کاریگروں کی محنت اور تکالیف کا قریب سے جائزہ لیا اور کہا کہ ان کی مدد کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہےجبکہ تلنگانہ جاگروتی بھی ان کے تعاون کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کانایاپلی شنکر سمدرم ریزروائر کا دورہ کیا اور وہاں کے بے گھرخاندانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ بارہ سال گزرنے کے باوجود ریزروائر کے متاثرین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے پلاٹوں کے قریب ہی ان کے گھر تعمیر کئے جائیں، ماضی میں جن 30 تا 40 افراد کے نام فہرست میں شمولیت سےرہ گئے تھے۔

انہیں فہرست میں شامل کیا جائے اور جو لوگ آج بھی بے گھر ہیں ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جو بچے 18 سال کے نہیں تھے، اب 18 سال کی عمر کو عبور کر چکے ہیں اور انہیں بھی حقوق ملنے چاہئیں۔ جس طرح مَلّنا ساگر، مڈ مانیر اور رنگانائک ساگر کے متاثرین کو انصاف ملا، اسی طرز پر ان خاندانوں کو بھی ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کئے جائیں۔ کویتا نے کہا کہ مانگے بغیر ماں بھی کھانا نہیں دیتی، اسی طرح حکومت سے بھی حق مانگنا پڑتا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کئی لیڈرس آکر وعدے کرتے رہے مگر عمل نہ ہوا، لیکن بطور خاتون قائد وہ یقین دلاتی ہیں کہ وہ ان کے لئے انصاف کی جدوجہد جاری رکھیں گی حتیٰ کہ وہ اس وقت اقتدار میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوں تو وہ ہر طرح کی لڑائی لڑ کر متاثرین کا حق دلائیں گی۔
News Source : M.F. Baig Riaz

