تلنگانہ کی دوسری سرکاری اردو زبان حالی کا شکار، کانگریس حکومت جان بوجھ کر اردو کو نقصان پہچارہی ہے۔

Telangana’s second official language, Urdu, is in a state of disrepair, the Congress government is deliberately harming Urdu

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد :

اردو زبان کے فروغ اور ترقی کے لئے قایم تلنگانہ اردواکیڈیمی اب کانگریس حکومت کی لاپروہی کے باعث مقفل ہونے کو ہے کیونکہ معاشی سال 2025۔میں اس کی کسی بھی اسکیم پر عمل درآمد نہیں ہوپا یا ہے۔ معاشی سال ختم ہونے میں اب صرف سات دن باقی رہ گئے ییں اور ان ساے دنوں میں سری رام نومی اور اتوار دو دن تعطیل اس طرح پانچ دن باقی ہیں۔ اردو اکیڈیمی کے ذمہ داروں نے فنڈس کی اجرائی کے لئے سکریٹرییٹ میں چیکس داخل کردئے ہیں لیکن فائنانس ڈپارٹمنٹ نے بلز کو منظوری نہیں دی جس کی وجہہ سے اردو اکیڈیمی عملا غیر کارکرد ہوگئی ہے۔

ان بلزکو روکنے کا محکمہ خزانہ کے پاس کوئی معقول وجہہ نہیں ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود نہیں چاہتی کہ اردو زبان کے ساتھ انصاف ہو۔ واضح ہو کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی کا سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپیئے مختص کیا گیاہے لیکن افسوس کہ معاشی سال 2025 ختم ہونے کے باوجود مختص کردہ اس رقم کا پچیس فیصد حصہ بھی جاری نہیں ہوا۔ایک مہنہ پہلے جب اردو صحافیوں نے وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی توجہہ اس جانب مبذول کروائی کہ اقلیتی بجٹ جاری نہیں ہوا تو وہ صاف مکر گئے اور دعوی کیا کہ مکمل بجٹ جاری ہوچکا ہے۔

حکومت تلنگانہ کی اردو دشمنی سے اردو اکیڈیمی کا ترجمان ماہنامہ قومی زبان کا گزشتہ آٹھ مہنے کا بقایہ طحہ پرنٹنگ پریس کو واجب الادا ہے۔ اس لئے دو مہنے سے رسالہ شائع نہیں ہوا ۔ اردو شاعروں اور ادیبوں کی کتابوں پر جزوی امداد جاری نہیں ہوئی اردو اخبارات و رسائل کی اعانت ، اردو صحافیوں اور قلمکاروں کی مالی امداد ،مطبوعہ کتابوں پر انعامات، بیسٹ اردو ٹیچرایوارڈ، بیسٹ اردو اسٹوڈینٹ ایوارڈ، مشاعرے ، سیمپوزیمس ، سیمنار ادبی پروگرامس سب کے سب ٹھپ پڑے ہیں ۔

ہر سال جنوری میں نامپلی میں لگنے والی سالانہ نمائش میں اردو اکیڈیمی کا بک اسٹال تک بھی نہیں لگایا جاسکا۔بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راو نے بھی جاریہ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں اس مسلہ کو اٹھایا ہے۔جب ہریش راو اقلیتوں کے اس مسلے کو اسمبلی میں اٹھارہے تھے تب ہمیں علامہ اقبال کا وہ مصرعہ بار بار یاد آرہا تھا کہ "پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے” کیونکہ ہمارے اقلیتی قائدین کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ حکومت کو اس کا فرض یاد دلاتےخیر 31 مارچ سے پہلے پہلے زیر التوابلز محمکہ فائنانس سے اگرکلیر نہیں ہوتے ہیں تو پھر اس کا مداوا ممکن نہیں۔

News Source : Agency