Telangana Urdu Working Journalists Union is deeply concerned about the shortage of accreditation cards
The struggle to protect the rights of Urdu journalists continues. A heartfelt appeal to obtain membership before the announced date
(اپنا ورنگل)
محبوب نگر :
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین ( TUWJU ) کے ریاستی نائب صدر ممتاز سینئر صحافی الحاج محمد عبدالرافع ذکی قادری اور ریاستی سیکریٹری معروف عالمِ دین و سینیئر صحافی مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی نے ایک تفصیلی مشترکہ صحافتی بیان میں کہا ہے کہ تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین ملک کی واحد منظم ، فعال اور مؤثر اردو ٹریڈ یونین ہے ، جو اردو صحافیوں کے حقوق ، عزتِ نفس اور پیشہ وارانہ بقاء کے لئے مسلسل جدوجہد کرتی آ رہی ہے اور اِن شآء اللہ عزوجل کرتی رہے گی ۔
اُنہوں نے کہا کہ سابقہ ٹی آر ایس حکومت کے دور میں بالخصوص اردو منڈل سطح کے نمائندوں ، چھوٹے اردو اخبارات اور مقامی صحافیوں کے ساتھ جو نا انصافی روا رکھی گئی تھی ، وہ اردو صحافت کی تاریخ کا ایک تلخ باب ہے ۔ اس دور میں ایکریڈیٹیشن کارڈز کی تعداد محدود کر کے اردو صحافیوں کو شدید معاشی اور پیشہ وارانہ مشکلات سے دوچار کیا گیا تھا ، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی روزی روٹی متأثر ہوئی بلکہ سرکاری اجلاسوں اور عوامی پروگراموں میں شرکت کا حق بھی سلب ہو کر رہ گیا تھا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس سنگین صورتحال کے خلاف تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے قانونی رآستہ اپنایا اور تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ یونین کی مسلسل پیروی اور قانونی جدوجہد کے نتیجے میں عدالتِ عالیہ کی جانب سے تلنگانہ کے اردو صحافیوں کے ساتھ روا رکھے گئے معاندانہ رویے کے خاتمے سے متعلق احکامات صادر ہوئے ، جس سے اردو صحافی برادری کو کسی حد تک راحت اور حوصلہ ملا ۔دو قائدین نے اظہار تأسف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اعلامیہ کے G.O.Ms.No.252 (مؤرخہ 12 ڈسمبر 2025ء ) کے تحت جاری نئی گائیڈ لائنز میں ایک مرتبہ پھر ایکریڈیٹیشن کارڈز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے ،
جو صحافتی حلقوں کے لئے باعثِ تشویش امر ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پرنٹ میڈیا ، اِلیکٹرانک میڈیا اور کیبل میڈیا سے وابستہ سینکڑوں اردو صحافی متأثر ہونے کے قوی خدشے سے دوچار ہیں اور انہیں اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ اِسی سنگین صورتحال کے پیش نظر تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین ( TUWJU ) کی جانب سے گذشتہ ہفتہ ریاستی صدر یونین شأن صحافت مولانا ڈاکٹر الحاج خواجہ شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ کی صدارت میں ایک ہنگامی مشاورتی اجلاس ریاستی صدر دفتر حیدرآباد میں منعقد کیا گیا جس میں حیدرآباد ، سکندرآباد اور تلنگانہ کے تمام اضلاع سے صدور ، معتمدین ، یونین قائدین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر کئی اہم فیصلے کئے گئے اور ریاستی حکومت کو ایک تحریری یاد داشت بھی پیش کی گئی۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یونین کے وفد نے وزیر اطلاعات و نشریات اور کمشنر اطلاعات و تعلقاتِ عامہ سے ملاقات کرکے اردو صحافیوں کے مسائل پر مُدلل اور مؤثر نمائندگی بھی کی ۔ یونین کا دو ٹوک مطالبہ ہے کہ اکریڈیٹیشن کارڈز کی تعداد کو G.O.Ms.No.239 ( مورخہ 15 جولائی 2016 ) سے بہتر اور زمینی حقائق کے مطابق بنایا جائے ، تاکہ تمام طبقات کے صحافیوں کو انصاف مل سکے ۔
اس کے ساتھ ساتھ کیبل ٹی وی چینلز کو بھی ریاستی اور ضلعی سطح پر روایتی طریقے کے مطابق اکریڈیٹیشن کارڈز دیئے جائیں تاکہ مقامی مسائل کی مؤثر نشاندہی ممکن ہو سکے ۔صحافتی قائدین نے واضح کیا کہ یہ جدوجہد کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ صحافتی آزادی ، پیشہ وارانہ وقار اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کے لئے ہے۔ یونین کا ماننا ہے کہ جب نئی گائیڈ لائنز کے باعث پریس ایکسیس میں رکاوٹیں پیدا ہوں تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ یونین قائدین سے سنجیدہ گفت و شنید کرکے اردو صحافیوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائے ۔ب
یان کے اختتام پر جناب الحاج محمد عبدالرافع ذکی قادری اور مولانا محمد محسن پاشاہ نقشبندی نے تلنگانہ بھر کے اردو صحافیوں ، بالخصوص متحدہ ضلع محبوب نگر (ناگرکرنول ، ونپرتی ، گدوال ، نارائن پیٹ اور محبوب نگر ) کے اردو صحافیوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ معلنہ تاریخ 31 / جنوری سے قبل تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین کی رکنیت حاصل کریں ، متحد ہو کر اپنے جائز حقوق کے لئے جدوجہد کریں اور اردو صحافت کے روشن مستقبل کے لئے یونین کا بھرپور اور مؤثر ساتھ دیں ۔ متحدہ ضلع محبوب نگر مسلم صحافی حضرات پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے حسب ذیل فون نمبرات 9440530434,8142496786 پر رابطہ کرکے رسید حاصل کرلیں-
News Source : M.F. Baig Riaz

