تلنگانہ حکومت کی میڈیا ایکریڈیٹیشن قواعد میں اہم ترامیم- خواتین صحافیوں کے لیے 33 فیصد لازمی کوٹہ، بڑے اخبارات کو اضافی ایکریڈیٹیشن کارڈز

Telangana government makes major amendments to media accreditation rules – 33% mandatory quota for women journalists, additional accreditation cards to major newspapers

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد :
حکومتِ تلنگانہ نے میڈیا ایکریڈیٹیشن قواعد 2025 میں اہم ترامیم جاری کرتے ہوئے خواتین صحافیوں ، خصوصاً ڈیسک جرنلسٹس ، کے لئے نمایاں نمائندگی کو یقینی بنانے اور اخبارات کے سرکولیشن کی بنیاد پر اضافی ایکریڈیٹیشن سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جنرل ایڈمنسٹریشن ( I&PR ) ڈپارٹمنٹ نے جی او آر ٹی نمبر 103 مؤرخہ 24 جنوری 2026 جاری کیا ہے۔جاری کردہ احکامات کے مطابق اب میڈیا اداروں کے لیے کم از کم 33 فیصد خواتین ڈیسک صحافیوں کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔

مزید برآں، ایکریڈیٹیشن کوٹہ کے تحت خواتین صحافیوں کو ترجیح دینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے، جسے خواتین کی پیشہ ورانہ شمولیت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔حکومت نے قواعد میں ایک اہم تکنیکی ترمیم کرتے ہوئے جہاں کہیں بھی “میڈیا کارڈ” کا لفظ درج تھا، اسے اب باضابطہ طور پر “ایکریڈیٹیشن کارڈ” سے تبدیل کر دیا ہے۔پرنٹ میڈیا کے لیے بھی سرکولیشن کی بنیاد پر اضافی سہولتیں دی گئی ہیں۔

جن اخبارات کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے، انہیں ان منڈلوں میں جہاں آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہو، ایک اضافی ایکریڈیٹیشن کارڈ دیا جائے گا۔ اسی طرح ڈھائی لاکھ سے زیادہ سرکولیشن رکھنے والی اشاعتوں کو ریاستی سطح پر کھیل، ثقافت اور فلم کے ہر زمرے میں ایک ایک اضافی ایکریڈیٹیشن کارڈ فراہم کیا جائے گا۔مزید برآں، جن اخبارات کی سرکولیشن 75 ہزار سے ڈھائی لاکھ کے درمیان ہے، انہیں ریاستی سطح پر کھیل، ثقافت یا فلم میں سے کسی ایک شعبے کے لیے ایک اضافی ایکریڈیٹیشن کارڈ دیا جائے گا۔

اردو صحافت سے متعلق بھی ایک اہم وضاحت کی گئی ہے۔ قواعد میں درج “بڑا اردو اخبار” کی اصطلاح کو تبدیل کر کے اب باقاعدہ طور پر “اردو روزنامہ اخبار” کر دیا گیا ہے، جسے اردو میڈیا حلقوں کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ریاستی میڈیا ایکریڈیٹیشن کمیٹی (SMAC) کی تشکیل میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ اب اس کمیٹی میں پریس کلب حیدرآباد کے ایک نمائندے اور بڑے روزنامہ اخبار کے ڈیسک جرنلسٹس کے نمائندے کو بھی شامل کیا جائے گا۔

حکومت نے اسپیشل کمشنر، محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، حیدرآباد کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ترامیم پر عمل درآمد کے لیے ضروری کارروائی فوری طور پر انجام دیں۔میڈیا حلقوں میں ان ترامیم کو پیشہ ورانہ معیار، نمائندگی اور ادارہ جاتی شفافیت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

News Source : Agency