بیدر میں آوارہ کتوں کا حملہ، ایک ہی دن میں 7 افراد زخمی، ضلع بھر میں خوف و ہراس، انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات?

Stray dogs attack in Bidar, 7 people injured in a single day, panic spread across the district, questions raised over the administration’s silence

(اپنا ورنگل)

بیدر :
قلبِ شہر بیدر میں آوارہ کتوں کے حملوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کل 26 جنوری کو ایک ہی دن میں آوارہ کتوں کے حملوں کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے۔ متاثرین میں معصوم بچے بھی شامل ہیں جبکہ 65 سال تک کے ضعیف العمر افراد بھی ان حملوں کا نشانہ بنے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر سرکاری دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے غول بے خوف گھوم رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں، خصوصاً اسکولی بچوں، بزرگوں اور خواتین میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف شہر بیدر تک محدود نہیں بلکہ ضلع کے مختلف علاقوں سے بھی کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جہاں متاثرہ افراد علاج کے لیے سرکاری دواخانوں سے رجوع کر رہے ہیں۔تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض سرکاری دواخانوں میں کتوں کے کاٹنے سے متعلق ضروری ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث مجبوراً کئی متاثرین کو مہنگے خانگی دواخانوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جو غریب عوام پر اضافی مالی بوجھ ثابت ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 28 ستمبر 2025 کو بگدل میں بھی آوارہ کتوں کے حملے میں تین معصوم بچے شدید زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد عوام نے ضلع انتظامیہ کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا تھا، مگر افسوس کہ اس کے باوجود آج تک نہ تو ضلع انتظامیہ اور نہ ہی عوامی نمائندوں کی جانب سے کوئی ٹھوس اور دیرپا اقدام کیا گیا، جس کے نتیجے میں آج بھی عوام اسی مسئلہ سے دوچار ہیں۔

شہریوں نے شدید نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، مجلس بلدیہ کے ذمہ داران اور عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آوارہ کتوں کو قابو میں کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے اور سائنسی طریقے سے ان کی نسبندی کا انتظام کیا جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے افسوسناک واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔

عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ محکموں اور عوامی نمائندوں پر عائد ہوگی۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ اس سنگین مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے گی۔

News Source : M.A. Samad Manju wala