National Education Conference in Bidar: “Nationwide Strategy for Rehabilitation of Dropout Students, Two-day Program of Experts Hosted by Dr. Abdul Qadeer”
(اپنا ورنگل)
بیدر :
”اسکول واپسی: ہندوستان کے ترکِ تعلیم طلبہ کی تعلیمِ نو کی مؤثر تشکیل“(Back to School: Reshaping Education for India’s Dropout Students)کے عنوان سے دو روزہ قومی کانفرنس 30 نومبر اور یکم دسمبر 2025 کو بیدر میں منعقد ہونے جارہی ہے۔ اس عظیم الشان اور بامقصد پروگرام کی میزبانی شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کر رہا ہے، جبکہ اس کی قیادت ڈاکٹر عبدالقدیر، چیئرمین شاہین گروپ، خود انجام دیں گے۔پروگرام کا آغاز صبح 8 بجے رجسٹریشن سے ہوگا، جس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، محققین اور معتبر سماجی اداروں کے نمائندگان شرکت کریں گے۔
کانفرنس کے پہلے دن کی کارروائی حافظ عمر راشد کی قرأتِ قرآن سے شروع ہوگی، جس کے بعد9:30 بجے افتتاحی اجلاس بعنوان ”تعلیم میں شمولیت اور تنوع: ایک مساوی نظامِ تعلیم کی تشکیل“ منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں ظفر سریشوالا (سابق چانسلر مانو)، ڈاکٹر رودریشا ایس (عظیم پریم جی فاؤنڈیشن)، ڈاکٹر کے ایم بہارالاسلام (انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی حیدرآباد)، پروفیسر ڈاکٹر سید عقیل احمد (سابق وائس چانسلر یونیپویا یونیورسٹی)، ڈاکٹر زبیر ہداوی (قرتبہ فاؤنڈیشن) اور پروفیسر محمد فریاد (ڈین اسکول آف جرنلزم مانو و یونیسف پارٹنرشپ ڈائریکٹر) اپنے اہم افکار پیش کریں گے۔
اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر افتتاحی نشست کے مرکزی مقرر ہوں گے، جو شاہین ماڈل، اپنی طویل تعلیمی خدمات اور ہندوستان بھر میں ڈراپ آؤٹ طلبہ کی بحالی کے لیے مؤثر حکمتِ عملی پر جامع خطاب پیش کریں گے۔ اجلاس میں عبدالحسیب (منیجنگ ڈائریکٹر) اور عبدالمقیط (اکاڈمک ڈائریکٹر، شاہین گروپ) بھی موجود رہیں گے۔نماز و طعام کے وقفے کے بعد2:30 بجے سیشن ” Building a Dropout-Free India by 2047: Vision, Policy and Action“ منعقد ہوگا، جس میں حبیب الرحمن شاہ آبادی نظامت کے فرائض انجام دیں گے۔ اس اجلاس میں سچن چودھری، سیدہ شگفتہ، شائق انصار، مولانا سید کعب رشیدی اور امجد علی ابراہیم شیخ اپنے تجربات اور تحقیقی نکات پیش کریں گے۔
شام 6 بجے”شاہین شامِ تہذیب“ کے عنوان سے ثقافتی محفل ہوگی، جس میں ڈاکٹر حیدر سیف، بلال احمد اور حافظ عبد الہادی نعتیہ کلام اور فنونِ لطیفہ کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیں گے۔یکم دسمبر کو دوسرے دن کی کارروائی حافظ شکیل کی قرأت سے شروع ہوگی۔ صبح9:30 بجے سے 1 بجے تک سیشن ”Education to Empowerment – Improving Learning Level of the Children “ منعقد ہوگا، جس میں پروفیسر راجاصاحب اے ایچ، ڈاکٹر محمد صفی انوری، ڈاکٹر شیخ فیروز، آصف مجتبیٰ، پون شرما اورمسٹر عبدالرزاق سعید نور (کمرشل اتاشی، سفارت خانہ صومالیہ، نئی دہلی) مختلف سماجی و تعلیمی موضوعات پر اظہارِ خیال کریں گے۔شرکاء کے لیے 2:30 بجے بیدر کے تاریخی ورثے سے متعلق خصوصی دورہ رکھا گیا ہے، جس میں محمود گاوان مدرسہ کی تعمیرِ نو کی وضاحت، مدرسہ کا معائنہ، بیدر قلعہ کی سیر اور معروف مؤرخ عبدالصمد صاحب کی رہنمائی میں شہر کا مطالعاتی دورہ شامل ہے۔اسی روز2:30 بجے Shaheen Branches Directors Meet“ بھی منعقد ہوگی، جس میں شاہین گروپ کے قومی و علاقائی ڈائریکٹرز تنظیمی ترقی، مارکیٹنگ، نصابی اصلاحات اور STSE منصوبے پر مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ اس اجلاس کی صدارتڈاکٹر عبدالقدیر انجام دیں گے۔
شرکاء میں عبدالحسیب، عبدالمقیط، محمد آصف علی، منیر الزماں، شیخ شفیق، شاہنور سمبریکار، داؤد محمد علی، شمشیر آول اور محمد عارف سمیت تمام سینئر ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔کانفرنس کے اختتام پر توقع ہے کہ ملک میں ڈراپ آؤٹ طلبہ کی بحالی، ان کی تعلیمی سطح میں بہتری، اور مضبوط تعلیمی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے نئی قومی سطح کی پالیسیاں اور تجاویز سامنے آئیں گی جن سب میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا وژن، قیادت اور عملی ماڈل مرکزی حیثیت رکھے گا۔
News Source: M.A. Samad Manju wala

