جوبلی ہلز میں بی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے گھر گھر عوامی رابطہ مہم چلائی، عوام نے کے سی آر پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

BRS minority leaders conducted a door-to-door public relations campaign in Jubilee Hills, and the public expressed full confidence in KCR.

ورنگل :
( اپنا ورنگل )
حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں 11 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیشِ نظر آج بی آر ایس پارٹی کی جانب سے گھر گھر عوامی رابطہ مہم کا اہتمام کیا گیا۔ اس مہم میں بی آر ایس کے سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل اور گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر محترمہ رضوانہ شمیم مسعود نے حصہ لیتے ہوئے حلقہ جوبلی ہلز کے مختلف علاقوں، بشمول سری رام نگر اور رحمت نگر، میں عوام سے بالمشافہ ملاقاتیں کیں۔ مہم کے دوران قائدین نے ووٹروں کے گھروں پر دستک دے کر تبادلہ خیال کرتے رہے۔ مقامی عوام نے بی آر ایس قائدین کا پرجوش استقبال کیا اور پارٹی کے حق میں نعرے لگائے۔ شہریوں نے اس موقع پر واضح الفاظ میں کہا کہ "ہمیں اپنا کے سی آر صاحب دوبارہ چاہیے، وعدہ شکن حکومت نہیں بلکہ عوام دوست راج چاہیے”۔ عوام نے اظہار کیا کہ وہ بی آر ایس کو دوبارہ برسراقتدار دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رہے۔ متعدد خواتین اور نوجوانوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے نہ صرف اسکیمات پر عمل آوری کی بلکہ سماجی انصاف کے اصولوں کو بھی مضبوط کیا ہے۔ بی آر ایس قائد شیخ عبداللہ سہیل نے اپنے بیان میں کہا کہ جوبلی ہلز کے عوام کا جوش و جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ بی آر ایس کے ساتھ ہیں اور ایک بار پھر کے سی آر پر اعتماد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کارکنان ہر محلے، بستی، گلی اور گھر تک جاکر عوام سے رابطہ قائم کر رہے ہیں تاکہ اصل ترقی کا پیغام پہنچایا جائے۔ورنگل کی ڈپٹی میئر رضوانہ شمیم مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں، خواتین اور غریب طبقات کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 11 نومبر کو بی آر ایس امیدوار کے حق میں ووٹ دیں تاکہ تلنگانہ کی ترقی کا سفر جاری رہے۔ اس موقع پر ورنگل کے اقلیتی قائد ایم اے نعیم کے علاوہ جوبلی ہلز کے مقامی قائدین لیاقت، جاوید، جہانگیر، ہرشاد، بشیر، دھنوجا اور پرساد نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے گھر گھر جاکر عوام سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کا پیغام عام کیا اور جوبلی ہلز کے شہریوں سے بھرپور تائید حاصل کی۔

News Source : Mohd. Munwaruddin