Political turmoil ahead of Jubilee Hills by-elections: Ali Maskati’s joining BRS, a major blow to Congress.
حیدرآباد :
( اپنا ورنگل)
کانگریس پارٹی کی جانب سے لامتناہی طور پر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ کی جانی والی نا انصافیوں و بے اعتنائی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوے آج سینئر کانگریسی قائد علی مسقطی نے دیگر قائدین کے ہمراہ بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی٬ حیدرآباد کے جوبلی ہلز ضمنی انتخاب کے پیش نظر بی آر ایس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قایدین کی شمولیتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر قائد علی مسقطی اور تلگودیشم کی سینئر لیڈر بی شکیلہ ریڈی کے ساتھ ساتھ سندیش ریڈی اور روہیت شرما نے بھی آج بی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تقریب بی آر ایس پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب میں کے ٹی راما راؤ نے بی آر ایس پارٹی میں نئے شامل ہونے والے قائدین کو پارٹی کا ’’ کھنڈوا” پہنایا اور باقاعدہ طور پر پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے خير مقدم و استقبال کیا۔ اس موقع پر عادل آباد کے بی آر ایس سینئر اقلیتی رہنما الحاج محمد یونس اکبانی اور ایم این سرینواس بھی موجود تھے۔ علی مسقطی اور محمد یونس اکبانی کے درمیان پرانا اور گہرا دوستانہ تعلق ہے، اور علی مسقطی کی بی آر ایس میں شمولیت سے کانگریس کو سخت دھچکا لگا۔ بی آر ایس پارٹی میں شمولیت کے موقع پر علی مسقطی اور بی شکیلہ ریڈی نے کہا کہ وہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں عوامی خدمت کے جذبے کے تحت بی آر ایس میں شامل ہو رہے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ نے ان رہنماؤں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سینئر قائدین کی آمد سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ علی مسقطی کا شمار سینیئر سیاست دانوں میں ہوتا ہے وہ بے لوث عوامی خدمت گزار ہیں۔انہوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا ہے وہ بنا کسی دکھاوے کے خاموشی کے ساتھ اپنی خدمت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ علی مسقطی کے ہمراہ ایک بہت بڑا کیڈر پرانے شہر میں موجود ہے علی مسقطی کی بی ار ایس میں شمولیت کے اعلان کے ساتھ ہی سینکڑوں کی تعداد میں ان کے حامیوں نے بھی بی آر ایس پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے٬ بی آر ایس میں علی مسقطی کی شمولیت پر بلا لحاظ مذہب و ملت عوام کی جانب سے انکا خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور انہیں مبارکباد دی جا رہی ہے۔
News Source : Agency


