تاج محل یا تیجو مہالیہ؟ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچا، سروے اور ویڈیوگرافی کا مطالبہ۔

Taj Mahal or Teju Mahaliya? Matter reaches Allahabad High Court, demands survey and videography

(اپنا ورنگل)

آگرہ  :

آگرہ کے تاریخی تاج محل کو ’’تیجو مہالیہ‘‘ نامی قدیم شیو مندر قرار دینے کے دعوے سے متعلق قانونی تنازع ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں آگرہ کی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس نے تاج محل کے معائنے، فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کے لیے ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

عرضی دیوتا ’’لارڈ شری اگریشور مہادیو ناگ ناتھیشور وراجمان‘‘ کی جانب سے ایڈووکیٹ ہری شنکر جین اور دیگر عقیدت مندوں کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ تاج محل دراصل بھگوان شیو سے منسوب ایک قدیم ہندو مندر تھا، جسے ’’تیجو مہالیہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ تنازع 2015 میں آگرہ کی سول عدالت میں دائر مقدمے سے جڑا ہے۔

درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ایڈووکیٹ کمشنر مقرر کیا جائے جو تاج محل کا تفصیلی معائنہ کرے اور فوٹوگرافی و ویڈیوگرافی کے ذریعے رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرے۔ عبوری طور پر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل سے اندر اور باہر کی تصاویر کرانے کی ہدایت دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ معاملہ پیر کو سماعت کے لیے درج ہے۔

واضح رہے کہ تاج محل کو ’’تیجو مہالیہ‘‘ قرار دینا درخواست گزاروں کا عدالتی دعویٰ ہے؛ موجودہ عرضی میں اس دعوے پر حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اب سب کی نظریں الہ آباد ہائی کورٹ کی سماعت پر مرکوز ہیں۔

News Source : Agency