Jamiat Ulema strongly represents the non-appointment of an Arabic lecturer in Nalgonda

(اپنا ورنگل)
نلگنڈہ :
جمعیت علماء ضلع نلگنڈہ کے ایک وفد نے دفتر مہتمم تعلیمات انٹرمیڈیٹ ضلع نلگنڈہ پہنچ کر گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالجس اور پرائیویٹ کالجس میں سیکنڈ لینگویج عربی زبان کی سہولت سے استفادہ کنندگان کو فیکلٹی دینے کے سلسلہ پرزور نمائندگی کی۔اس موقع پر مولانا اکبر خان اسعدی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ مسلم طلبہ کو داخلہ کے وقت اسکا تیقن تو دیا جاتا ہے لیکن بعد میں عربی لکچرار نہیں رکھا جاتا۔جسکی وجہ سے طلبہ کو نمبرات کم آرہے ہیں۔بعض کالجس اسکا نظم تو کررہے ہیں لیکن ایک آدھ ماہ میں پڑھا کر ختم کردیا جاتا جسکی وجہ سے زبان سے کما حقہ واقفیت نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار روز سے جمعیت علماء کا وفد مولانا سید احسان الدین قاسمی صدر جمعیت علماء تلنگانہ کی ہدایت پر شہر کے مختلف کالجس کے پرنسپلز سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت پیش کررہا ہے۔ہر جگہ سے مثبت جواب مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہر ضلع سے اس طرح کی نمائندگیاں ہوں تو اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔عربی زبان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ گلف جانے والے بچوں کو اس سے بہت حد تک مدد ملتی ہے۔
انہوں نے سرپرستوں سے گذارش کی کہ بغیر کسی مرعوبیت کے داخلہ کے وقت اس بارے میں کالج انتظامیہ سےصاف و دو ٹوک مطالبہ کریں۔اس موقع پر حافظ ساجد معتمد جمعیت الحفاظ نلگنڈہ ،عبدالغفور، شاہین طیب،مفتی صہیب،سجاد ،حافظ عتیق الرحمن بیگ موجود تھے۔
News Source : M.F. B aig Riaz

