Signs of the approaching Hour and Current World Conditions—-A well-reasoned speech by the Asad-ul-Ulama Maulana Muhammad Mohsin Pasha Naqshbandi
![]()
(اپنا ورنگل)
محبوب نگر:
بھارت سیوارتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی ، مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ نے اپنے خطاب میں قرآنِ حکیم کی سورۂ دخان کی آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں موجودہ عالمی حالات پر تفصیلی اور مدلل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید کی سورۂ دخان میں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی "دخان” یعنی آسمان پر ظاہر ہونے والے دھوئیں کا ذکر آیا ہے۔ مفسرینِ کرام کی تشریحات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس آیتِ کریمہ میں انسانیت کے لئے تنبیہ اور بیداری کا پیغام موجود ہے ، تاکہ لوگ غفلت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔
انہوں نے حالیہ بین الاقوامی کشیدگی خصوصاً امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے ۔ بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم کے آثار عالمی امن کے لئے شدید خطرہ بن سکتے ہیں اور ہزاروں معصوم جانوں کا ضیاع ہے ۔ مولانا کے مطابق اگر حالات پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو یہ کشیدگی وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے اور دنیا کے حالات مزید ابتر ہوکر ساری انسانیت غیر معمولی مشکلات اور خطہ غربت تک پہنچ سکتی ہے اسطرح جنگی اثرات پوری دنیا پر مرتب ہونگے۔
مولانا محمد محسن پاشاہ نقشبندی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اسلام ہمیں خوف و ہراس پھیلانے کے بجائے اصلاحِ احوال ، توبہ و استغفار اور امن و سلامتی کے قیام کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ موجودہ حالات میں کثرت درود شریف توبہ و استغفار، صبر و تحمل ، تلاوت قرآن حکیم عبادات الہیہ کیساتھ ساتھ حکمت اور اجتماعی وانفرادی دعاوؤں کا خاص اہتمام کریں اور عالمی امن وسلامتی کے لئے خصوصی دعائیں کریں تاکہ اقطاع عالم میں امن و آشتی کی فضائیں ہموار ہوسکیںے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیا کے موجودہ حالات ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنے عقائد حقہ پر گامزن ہوتے ہوئے اخلاقی و روحانی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے کا عظیم پیغام دیتے ہیں ، تاکہ انسانیت تباہی کے راستے سے بچ سکے اور امن عامہ، عدل و انصاف کا نظام امن قائم ہو۔
News Source : State Samachar

