Supreme Court should take suo motu notice against Assam Chief Minister Hemant Basava Sarma, otherwise Muslims will be forced to take to the streets: Abdul Manan Seth
(اپنا ورنگل)
بیدر :
”مسلمانوں کو اس قدر ستاؤ کہ وہ آسام چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں“کہاجارہا ہے کہ یہ گھٹیا بیان آسام کے وزیراعلیٰ بسواہیمنت سرما کا ہے۔صرف اتنا ہی نہیں اس جمہوریت دشمن وزیراعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹرلسٹ سے ہٹائے گا۔وزیراعلیٰ کا یہ نفرت انگیز دعویٰ دراصل آئین ہند کے آرٹیکل 15,14اور 326کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ دفعات ہندوستان کے ہر شہری کو برابری، مذہبی آزادی اور ووٹ کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔
یہ بات کے پی سی سی کے جنرل سکریڑی جناب عبدالمنان سیٹھ نے کہی۔ آج ایک پریس نوٹ جاری کرکے جناب عبدالمنان سیٹھ نے کہاکہ ”ہندوستان وہ سرزمین ہے جہاں مختلف مذاہب، مختلف زبانیں اور ثقافتیں صدیوں سے ایک ساتھ سانس لیتی آئی ہیں۔ یہاں اختلاف کے باوجود ساتھ ساتھ جینے کاسلیقہ رہاہے۔ یہ رشی منیوں، سنتوں، سادھوؤں اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیری، نظام الدین اولیاء، امیرخسروؒ، خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ جیسے صوفیوں کی سرزمین رہی ہے، جنہوں نے تمام انسانوں کو اپنابھائی اوراللہ کاکنبہ قرار دیا لیکن آج کے بدتمیز سیاست دانوں نے اسی سرزمین پر فساد مچا رکھاہے۔
جناب عبدالمنان سیٹھ نے آسام کے وزیراعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہ ”وزیراعلیٰ کے باوقار عہدے پر بیٹھ کراس آئینی عہدے کو رسواکرنے والے ہیمنت بسواسرما کابیان نہایت ہی گھٹیاسوچ کا مظہر ہے۔ ایسی گھٹیا سوچ پر فوری پابندی ضروری ہے۔ اس زہریلے بیان کے خلاف خاموش رہنے کاوقت نہیں ہے بلکہ سوچنے، بولنے اور آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کاوقت آچکاہے۔ کسی نے کیاخوب کہاہے۔یہ لڑائی کسی ایک مذہب یا ایک طبقے کی نہیں بلکہ ہندوستان کے جمہوری مستقبل کی لڑائی ہے۔
آئین کے خلاف بولنے والوں کی زبان پر تالاڈالنا لازمی امر ہے۔ حافظ افتخاراحمد قادری نے اپنے مضمون میں بجاطورپر لکھاہے کہ ”بھارت کی طاقت اس کی اکثریت یااقلیت میں نہیں بلکہ اس کے آئین میں ہے۔ اس اصول میں ہے کہ ہر شہری برابر ہے، چاہے اس کامذہب کچھ بھی ہو“مولانا محمود مدنی نے ہیمنت بسواسرما پر فوری FIRدرج کرنے کامطالبہ کیاہے۔ میں مولانا محمودمدنی صاحب کے مطالبہ کی تائید کرتاہوں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے ترجمان جناب ایس کیوآرالیاس نے بھی ہیمنت بسواسرما کے بیانات کی مذمت کی اور کہاہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اقتدار کے اعلیٰ منصبوں تک پہنچ چکی ہیں آسام کے مسلمانوں کے خلاف بیان کا ازخود نوٹس لینے سپریم کورٹ آف انڈیا سے مطالبہ کیاہے۔ جناب عبدالمنان سیٹھ نے اس توقع کااظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کسی سازش کی حصہ دار نہ ہوگی۔
اور اپنے وقار کو بچاتے ہوئے سپریم کورٹ ہیمنت بسواسرما وزیراعلیٰ آسام کے خلاف ازخو نوٹس لیتے ہوئے لاکھوں کروڑوں فکرمند مسلمانوں کو تحفظ دلائے گی ورنہ سارے ہندوستان کے مسلمان اپنے آئینی حق کو بچا نے کے لئے اور ہیمنت بسواسرما جیسے وزرائے اعلیٰ کو کیفرکردارتک پہنچانے کے لئے سڑکوں پر بھی اُتر سکتے ہیں۔
News source : M.A.Samad Manju wala

