If there is true love for the Master of the Universe, Hazrat Sayyiduna Ali (RA), then it is necessary to learn knowledge. Address by Hazrat Khwaja Ghiyasuddin Ajmeri and Asadul Ulama on the 54th anniversary of the birth of the Kaaba (RA).
(اپنا ورنگل)
قسمت پور :
مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب کی ذاتِ اقدس عظمت ،شجاعت ، عدل و تقویٰ کا روشن مینار ہے ۔ آپؓ وہ عظیم المرتبت اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے چمکتے دمکتے روشن بحر ذخار و عظیم المرتبت صحابیء رسولؐ ہیں جنہوں نے ہر مرحلے پر اسلام کی سربلندی کے لئے بے مثال قربانیاں دیں ان خیالات کا اظہار 24 ویں اولاد امجاد عطائے رسولؐ ہندو الولی خواجہء خواجگان فخر ہندوستان حضرت سیدنا خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمہ اللہ رہبر راہ شریعت پیر طریقت حضرت مولانا الحاج خواجہ سید غیاث الدین معینی چشتی اجمیری جانشین دیوان جی حضرت خواجہ سید صولت حسین معینی چشتی اجمیری رحمہ اللہ نے کل رآت خانقاہِ نصیریہ قسمت پور ضلع رنگا ریڈی میں 54 ویں سالانہ جشنِ مولود کعبہ مولائے کائنات حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم و رضی اللہ عنہ سےصدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جلسہ کا آغاز قراءت کلام پاک و نعتِ نبیؐ ،منقبت بہ شان مولائے کائناتؓ اور منقبت بہ شانِ حضور خواجہ غریب النوازؒ سے ہوا ۔ انہوں نے اپنا سلسلہء خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ میدانِ جنگ میں آپؓ کی شجاعت و بہادری ضربُ المثل رہی ، جبکہ عبادت ، زہد اور عفت و پاکدامنی میں آپؓ کا مقام انفرادی خصوصیت کا حامل ہے ۔خلافتِ راشدہ کے دور میں امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علیؓ نے عدلِ فاروقی اور حکمتِ نبویؐ کی عملی تصویر پیش فرمائ۔ آپؓ کا نظامِ حکومت حق و انصاف ، مساوات اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی تھا ۔
اہلِ بیت اطہار کے شہسوار کی حیثیت سے آپؓ نے عفت و عصمت ، صبر و استقامت اور اخلاقِ حسنہ کی بہترین و اعلیٰ مثال قائم کی ، جو رہتی دنیا تک امتِ مسلمہ کے لئے مشعلِ راہ ہے۔حضرت علیؓ کی سیرت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ قوت ، اقتدار اور شجاعت کا اصل حسن عدل ، تقویٰ اور پاکیزگیِ کردار میں مضمر ہے آج ضرورت اس امر کی ہیکہ ہمیں مولائے کائنات حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تعلیمات پر سختی کیساتھ عمل کرنا ناگزیر ہے چونکہ خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین حضور اکرم محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم نے علم کا دروزاہ قرار دیا چنانچہ قرآن حکیم کی پہلی اقراء باسم ربک نازل ہوئ ہے اگر مسلم معاشرہ سے بے راہ روی اور قتل غارت گیری جیسے ناسور کا مسلم معاشرہ سے خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
علیؓ سے محبت ہے تو علم حاصل کرو – بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولود کعبہ مولائے کائنات خلیفہء رسول اللہؐ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ورضی اللہ عنہ اور عطائے رسولؐ خواجہ غریب النواز چشتیؒ کی تاریخی ، عظمت اور مقام کے لحاظ سے اسلامی تاریخ کے دو درخشاں نام ہیں ، جن میں مولائے کائنات حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور دوسرے آل نبی و اولاد علیؓ عطائے رسولؐ حضرت خواجہ غریب النواز چشتی اجمیری رحمہ اللہ امتِ مسلمہ کے لئے مکمل نمونہء حیات اور روشن ہدایت ہے کے علاوہ عدل و مساوات ، عشقِ رسولؐ اور خدمتِ خلق کی روشن و بین مثال ہیں ۔
حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت باسعادت 13/ رجب المرجب سن 23 قبلِ ہجرت بمطابق تقریباً 600 عیسوی خانۂ کعبہ میں ہوئی ، جو آپؓ کی عظمت و فضیلت کی مستند و منفرد دلیل ہے ۔ آپ کی شہادت 21 / رمضان المبارک سن 40ھجری کو کوفہ میں ہوئی۔حضرت سیدنا علیؓ کا مقام قرآن و حدیث میں نہایت ہی بلند و بالا ہے ۔ قرآنِ حکیم میں اہلِ ایمان ، اہلِ بیت اور مجاہدین فی سبیل اللہ کی جو عظمت بیان ہوئی ہے، اس کے عملی پیکر حضرت سیدنا علیؓ ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: کہ “میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔
”آپؓ شجاعت ، عدل، علم، تقویٰ اور خلافتِ راشدہ کے روشن مینار ہیں۔ مولانا اسد العلماء نے یہ بھی کہاکہ آپؓ کی سیرت و قیادت ، انصاف اور حق گوئی کا لازوال نمونہ ہے ۔ حضرت خواجہ غریب النواز چشتی اجمیری رحمہ اللہ عطائے رسولؐ ، سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ کی ولادت 537 ھجری بمطابق 1141 عیسوی سیستان ( ایران ) میں ہوئی اور آپؓ کا وصال 6 / رجب المرجب 633 / ھجری بمطابق 1236 عیسوی اجمیر شریف میں ہوا۔ آپ نے برصغیر میں محبت ، رواداری ، خدمتِ انسانیت اور عشقِ رسولؐ کا عظیم الشان پیغام عام کیا۔
آپ کا فرمان ہے، “مخلوقِ خدا سے محبت ، خالق حقیقی تک پہنچنے کا قرب و ذریعہ ہے ۔” آپؒ کی خانقاہ آج بھی امن ، اخوت اور روحانی فیضان کا عالمی مرکز عظیم ہے ۔حضرت علیؓ عدل و شجاعت کی بہترین علامت اور حضرت خواجہ غریب النوازؒ عشق و خدمت کا استعارہ ہیں ۔ دونوں ہستیاں امت کے لئے چراغِ راہ ہیں ، جن کی تعلیمات آج بھی انسانیت کو جوڑنے اور معاشرے کو سنوارنے کا عظیم پیغام دیتی ہیں- جناب قاضی خواجہ محمد سلیم الدین چشتی قادری سجادہ نشین شاہ دکن شیخ المشائخ حضرت حاجی خواجہ شاہ نصیر الدین صدیقی رحمہ اللہ نے مقدس جلسہ کی نگرانی کی۔
جبکہ جانشین سجادہ نشین جناب قاضی خواجہ خضر چشتی قادری نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ہمارے درمیان میں اولاد امجاد عطائے رسولؐ حضرت مولانا الحاج خواجہ سید غیاث الدین معینی چشتی اجمیری کی آمد ہماری بارگاہ حضرت خواجہ نصیر الدین چشتی رحمہ اللہ میں گویا کہ حضرت خواجہ غریب النواز رحمہ اللہ کی آمد کے مترادف ہے۔
شہہ نشین پر حضرت مولانا علامہ حافظ ڈاکٹر قاضی شاہ خواجہ مقیم الدین چشتی قادری مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، مولانا حافظ ڈاکٹر قاضی خواجہ شاہ حمید الدین چشتی قادری جانشین حضرت ریاض المشائخؒ ، جناب قاضی خواجہ طاہر الدین چشتی قادری اور قاضی خواجہ شاکر الدین چشتی قادری و دیگر سینکڑوں مرد و خواتین موجود تھے – لنگر مولائے کائناتؓ بہترین بکرے کے گوشت کی بریانی اور قوبانی کے میٹھے کا اہتمام کیا گیا تھا – احسن حسین خان بندہ نوازی اور عادل حسین خان وارثی (حسینی برادرس ) مشہور ومعروف قوال نے کلام سناکر خوب داد تحسین حاصل کی -رآت دیر گئے تک محفل سماع جاری تھا –
News Source : Agency

