Natural disasters in India have destroyed many lives and livelihoods, and INAM calls for the establishment of a relief fund across the country.
انڈین نیشنلسٹ موومنٹ کے نیشنل جنرل سیکرٹری محمد علی زبیر کا صحافتی بیان۔

ورنگل۔/7ستمبر (اپنا ورنگل)
آج بھارت قدرتی آفات کے شدید دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں سیلاب، طوفان اور گرمی کی لہروں نے ہزاروں زندگیاں اور اربوں روپے کا نقصان کیا۔ 2024-25 میں قدرتی آفات سے 3,080 افراد جان بحق ہوئے—یہ تعداد پچھلے سال سے 18 فیصد زیادہ ہے۔تلنگانہ کے اضلاع کاماریڈی اور میدک میں حالیہ سیلابوں نے سینکڑوں گاؤں کو متاثر کیا، لاکھوں مکانات اور کھیت تباہ ہوئے، بجلی و پانی کی فراہمی معطل رہی۔گزشتہ پانچ برسوں میں ملک بھر میں قدرتی آفات سے ہلاکتوں اور معاشی نقصانات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ سیلاب اور طوفان ان قدرتی آفات کا بڑا سبب رہے ہیں، جبکہ ہیٹ ویو اور سردی کی لہریں بھی جان لیوا ثابت ہوئیں۔ رپورٹوں کے مطابق براہ راست معاشی نقصانات بھارت کی جی ڈی پی کے دو فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ہر سال بے گھر ہو جاتے ہیں۔ شہری علاقوں کو کچھ بہتر تحفظ حاصل ہے، مگر دیہی اور نیم شہری علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جہاں کھیت، مکانات اور بنیادی ڈھانچہ آفات کی نذر ہو جاتا ہے۔
تلنگانہ کا المیہ: کاما ریڈی اور میدک میں سیلابی تباہی،
اگست 2025 کے آخر میں تلنگانہ نے اپنی تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک کا سامنا کیا۔ کاما ریڈی اور میدک اضلاع میں ریکارڈ بارشوں نے درجنوں دیہات کو ڈبو دیا۔ صرف راجام پیٹ میں 44.05سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس نے سیکڑوں گھروں کو زیر آب کر دیا۔ کم از کم چھ افراد جاں بحق، متعدد لاپتہ اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ شاہراہیں، پل، کھیت اور سنگور پراجیکٹ شدید متاثر ہوئے۔ عوام نے حکومت پر الزام لگایا کہ وارننگز کے باوجود بروقت تیاری اور موثر امداد نہ دی گئی۔(آئی این اے ایم) کے مطالباتہے کہ ہر ریاست اور گاؤں تک ریلیف فنڈان حالات کے پیش نظر، انڈین نیشنسٹ موومنٹ (آئی این اے ایم) نے مطالبہ کیا ہے کہ کووِٹ ریلیف فنڈ (CRF) اور نیشنل کلیمٹی کنٹی جینسی فنڈ (NCCF) کو ملک بھر میں فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ یہ فنڈز ہر ریاست، میونسپل حدود اور گاؤں تک پھیلائے جائیں تاکہ بے سہارا عوام کو بر وقت معاوضہ اور امداد مل سکے۔ (آئی این اے ایم) کا کہنا ہے کہ:ان خوفناک حالات کے بعد، انڈین نیشنلسٹ موومنٹ (آئی این اے ایم) نے مرکزی حکومت اور تلنگانہ وزیرِ اعلیٰ سے فوری مطالبہ کیا ہے:
1۔تلنگانہ کے حالیہ سیلاب کو قومی آفت قرار دیا جائے۔
2۔فوری طور پر کم از کم 2000 کروڑ روپے ریلیف فنڈفراہم کیے جائیں۔
3۔جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا معاوضہ دیا جائے۔
4۔مکمل طور پر تباہ شدہ مکانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔کسانوں کو فی ایکڑ مالی امداد ملے۔
5۔فنڈز کو جی ڈی پی کے 3 فیصد کے برابر قائم کر کے نان-لیپس ایبل بنایا جائے۔
6۔این ڈی ایم اے کے تحت 22 سے 40 سال تک کے نوجوانوں کو رضاکارانہ تربیت دی جائے۔
7۔مستقبل کی تعمیرات کو سیلابی سطح سے اونچا کیا جائے، جیسا کہ پانڈوچیری میں کیا گیا ہے۔
8۔آئی این اے ایم کا کہنا ہے کہ فنڈز کی مد میں جی ڈی پی کا 3 فیصد مختص کیا جائے اور امداد میں تاخیر نہ ہو۔ اس سے ہر متاثرہ فرد کی فوری مدد ممکن ہوگی۔
قدرتی آفات سے مسلسل ہلاکتیں اور معاشی تباہی بھارت کے لیے ایک بڑا انسانی اور اقتصادی چیلنج ہے۔ تلنگانہ کے حالیہ سیلاب نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ موجودہ نظام ناکافی ہے۔( آئی این اے ایم) کے مطالبات ایک جامع، شفاف اور منصفانہ نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس میں ہر شہری اور ہر گاؤں کو بر وقت امداد مل سکے۔ اگر یہ اقدامات کئے گئے تو مستقبل میں آفات سے پیدا ہونے والے دکھ و صدمے کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے
News Source : Mohd. Munwaruddin
