گوا ریاست کے دارالحکومت میں فریڈرش ایبرٹ اسٹفٹنگ انڈیا کے زیراہتمام منعقدہ سیمنار میں رکن پارلیمنٹ ورنگل کڈیم کاویا نے بطور مقرر شرکت کی۔

Warangal MP Kadhim Kavya participated as a speaker at a seminar organized by Friedrich Ebert Stiftung India in the Goa state capital.

ورنگل- 6/ ستمبر
( اپنا ورنگل )
گوا ریاست کے دارالحکومت میں فریڈرش ایبرٹ اسٹفٹنگ انڈیا کے زیراہتمام بروز ہفتہ منعقدہ سیمینار میں رکن پارلیمنٹ ورنگل ڈاکٹر کڈیم کاویا نے بطور مقرر شرکت کی اور اس موقع پر انہوں نے "ڈیجیٹل صنفی فرق اور خواتین کی معاشی ترقی کے موضوع پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا۔ ڈاکٹر کاویا نے کہا کہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں خواتین مردوں کے مقابلے 8 فیصد کم موبائل فون رکھتی ہیں جب کہ اسمارٹ فون کے استعمال میں یہ فرق 13 فیصد تک ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ دنیا بھر میں اب تک 405 ملین خواتین ڈیجیٹل دنیا سے جڑنے سے محروم ہیں۔ جو خواتین کی ترقی کیلئے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت میں صرف 75 فیصد خواتین کے پاس موبائل فون ہےاور ان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد محض 35 فیصد ہے۔ اس ڈیجیٹل عدم مساوات کے باعث خواتین کو معاشی خود مختاری٬ تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ورنگل کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوے رکن پارلیمنٹ کڈیم کاویا نے کہا کہ یہاں کی خواتین قدیم زمانے سے طاقت اور قیادت کی علامت رہی ہیں۔ انہوں نے رانی ردرما دیوی کی حکمرانی اور سمّکا- سارلما تہوار کی مثالیں پیش کرتے ہوے خواتین کے عصم و استقلال کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے وزیراعلٰی ریونت ریڈی کی قیادت میں "اندراماں راجیم” کے دور میں خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے اہم اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ان میں خواتین کیلئے 33 فیصد ریزرویشن٬ خواتین خود امدادی گروپوں کو 344 کروڑ روپے کے بلا سودی قرضے٬ صحت کی سہولتوں کیلئے 10 لاکھ روپے تک کی مالی امداد اور ماہانہ 2500 روپے مالی تعاون جیسے منصوبے شامل ہیں۔ ڈاکٹر کڈیم کاویا نے زور دیا کہ خواتین کے ڈیجیٹل تفاوت کو کم کرنے کیلئے کم قیمت پر موبائل آلات کی فراہمی٬ ڈیجیٹل تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندراماں راجیم میں وزیراعلٰی ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت خواتین کی معاشی ترقی کے لیے نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ اس سیمنار میں تمل ناڈو کی رکن پارلیمان آر سدھا٬ رکن اسمبلی پرنیکا ریڈی کے علاوہ کئی خواتین رہنماء بھی موجود تھیں۔

News Source : Mohd. Fazal ur Rahman Wajid