Using derogatory words against the Holy Prophet while naming Nizamabad after Indore is an attempt to disrupt the peaceful environment
ایم پی ڈی اروند کے بیان کی مذمت، منافرت مخالف قوانین کے تحت کیس درج کرنے حافظ محمد لئیق خان کا مطالبہ
(اپنا ورنگل)
نظام آباد :
نائب امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا حافظ محمد لئیق خان نے آج ایک پرہجوم صحافتی کانفرنس کو مخاطب کیا، انہوں نے رکن پارلیمان نظام آباد ڈی اروند کے نظام آباد کو اندور سے موسوم کرتے ہوئے متنازعہ بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی قائدین بالخصوص رکن پارلیمان ڈی اروند کو چاہیے کہ وہ شہر کی مثالی ترقی و تمام طبقات کی خوش حالی کیلئے سنجیدہ اقدامات کو توجہ اور ترجیح دیں ناکہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے فرقہ وارانہ بیانات کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن فضا کو بگاڑنے کی کوشش۔
حافظ محمد لئیق خان نے رکن پارلیمان ڈی اروند کو یاد لایا ہے کہ وہ بحیثیت رکن پارلیمان نظام آباد حلف لیا ہے نہ کہ رکن پارلیمان اندور، حافظ محمد لئیق خان نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص بی جے پی اور اسکے قائدین کو چاہیے کہ وہ انتخابات کے موقع پر اپنے عوامی خدمات کی بنیاد پر عوام سے ووٹ حاصل کریں نہ کہ پرامن ماحول کو بگاڑ کر نفرت کی سیاست کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش، انہوں نے کہا کہ ڈی اروند کے پاس گزشتہ 10 سالہ عوامی فلاحی کاموں کا کوئی ریکارڈ ہوں تو وہ عوام کے درمیان رکھ کر ووٹ مانگیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہر قوم و طبقہ کی غریب اور ضرورت مند عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو روزگار کی ضرورت ہے۔ بی جے پی اور اسکے قائدین اور ڈی اروند غریب عوام کی ان بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی بات کریں ناکہ منافرت پھیلانے کی کوشش۔ حافظ محمد لئیق خان نے حضور نظام کو تنقید کا نشانہ بنا کر نازیبا الفاظ کے استعمال پر ایم پی ڈی اروند کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی قائدین اور رکن پارلیمان ڈی اروند نظام آباد کی ترقی و عوامی خوشحالی کیلئے سنجیدہ ہے تو تمام طبقات کو اپنے اعتماد میں لے کر انتخابات میں کامیابی حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ نفرتی بیانات سے وقتی سستی شہرت تو حاصل ہوتی ہے لیکن انتخابات میں کامیابی نہیں حافظ محمد لئیق خان نے تلنگانہ ریاستی حکومت سے منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت قوانین کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
News Source : Nadeem Ahmed

