شاہ پور کرناٹک میں اعراسِ مبارک انکس خان ولیؒ کی سہ روزہ تقاریب کا اختتام — عظمتِ اولیاء اللہ اور فضائلِ شبِ براءت پر اسدالعلماء اور برادر سجادہ بارگاہ جلالیہؒ گوگی شریف کے ایمان افروز خطابات-

The three-day celebrations of the blessed wedding of Anaks Khan Wali (RA) in Shahpur, Karnataka conclude – Faith-inspiring speeches by Asad-ul-Ulama and Brother Sajjada Bargah Jalalia (RA) Gogi Sharif on the greatness of the saints of Allah and the virtues of the Night of Innocence –

(اپنا ورنگل)

شاہ پور:

مخدومِ دکن، موروثِ اعلیٰ بخاری ساداتِ دکن ، حضرت سید خوند میر بخاری المعروف انکس خان ولیؒ اور مخدوم حضرت سید منجن بخاری چشتی القادری المعروف انکس خان ولیؒ کے سالانہ سہ روزہ اعراسِ مبارک کے روح پرور موقع پر محل روضہ شریف ، تعلقہ شاہ پور ، ضلع یادگیر ، کرناٹک میں ایک عظیم الشان روحانی اجتماع منعقد ہوا۔ اس بابرکت تقریب میں بھارت سیوارتن ایوارڈ یافتہ، اسد العلماء، تنویرِ صحافت حضرت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء و مشائخ بورڈ، محبوب نگر تلنگانہ نے بحثیت مہمان خصوصی شرکت فرمائی۔

اسی طرح برادر سجادہ نشین بارگاہِ جلالیہؓ گوگی شریف کرناٹک ، حضرت علامہ مفتی سید شاہ چندا حسینی زبیر بابا مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ و بانی جامعہ جلالیہؒ بھی اس روحانی اجتماع میں شریک رہے۔ صندل مالی کی روح پرور رسم تقریب کا آغاز نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ درگاہ کے سجادہ نشین و موروثی متولی ، پیرِ طریقت حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر سید شاہ افتخار علی وزیر چشتی قادری جامع السلاسل کے دستِ مبارک سے رسمِ صندل مالی کی ادائیگی سے ہوا۔ اس موقع پر ممتاز علماء کرام ، مشائخ عِظام ، زائرین و عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور پورا ماحول نعت شریف درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

عظمتِ اولیاء اللہ اور فضائل شب براءت پر بعد ازاں منعقدہ عظیم الشان روحانی و اصلاحی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد محسن پاشاہ صاحب نقشبندی نے فرمایا کہ اولیائے کرام دینِ اسلام کی عملی تصویر ہوتے ہیں۔ ان کی زندگیاں محبت ، زہد ورع، اخلاص ، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا حسین نمونہ پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانقاہیں ہمیشہ سے اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ باطن کے مراکز رہی ہیں اور آج بھی انسانیت کو انہی روحانی اقدار کی شدید ضرورت ہے۔انہوں نے مزید فرمایا کہ بزرگانِ دین کے عرس ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اللہ والوں کا فیض ظاہری وصال کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور ان کے مزارات رشد و ہدایت کے مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مولانا نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں شبِ براءت کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ رات رحمت ، مغفرت اور نجات کی رآت ہے۔ اس رآت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی کرم فرماتا ہے اور سال بھر کے فیصلے فرمادیتا ہے ۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ اس بابرکت رآت کو توبہ، استغفار، نوافل، تلاوتِ قرآن مجید درودِ پاک اور زیارت قبور میں گزاریں، آپس کی رنجشوں کو ختم کریں کیونکہ باہمی معافی کے بغیر کامل مغفرت نصیب نہیں ہوتی ۔

حضرت علامہ مفتی سید شاہ چندا حسینی زبیر بابا صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ صوفیائے کرام نے دینِ اسلام کو محبت، اخلاق اور روحانیت کے ذریعے عام کیا اور ان کے آستانے آج بھی بلالحاظ مذہب و ملت دلوں کو سکون اور روح کو تازگی عطا کر رہے ہیں۔جلسہ کے اختتام پر سجادہ نشین کے فرزندِ ارجمندمولانا حافظ سید شاہ ارسلان بابا چشتی قادری نے عالمِ اسلام کے مسلمانوں ، ملک میں امن و سلامتی ، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور حاضرین کی مغفرت و کامیابی کے لئے نہایت رقت آمیز دعا کی، جس میں حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔

بعد ازاں لنگر و نیاز کا وسیع تر انتظام کیا گیا تھا اور عقیدت مندوں نے روحانی کیفیت کے ساتھ پر اثر تقریب میں شرکت کو اپنی سعادت مندی و فیروز مندی قرار دیا۔

News Source : State Samachar