The proposal to automatically deduct traffic challan amounts from bank accounts has been declared unconstitutional
(اپنا ورنگل)
حیدرآباد :
ٹریفک چالان کی رقم آٹو ڈیبٹ کے ذریعے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے وصول کرنے کی تجویز کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین اور شہری حلقوں نے اس اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق ٹریفک چالان کوئی سزا نہیں بلکہ صرف الزامی نوٹس ہوتا ہے۔ ہر شہری کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ وضاحت پیش کرے، اپیل دائر کرے یا عدالت سے رجوع کرے۔ آٹو ڈیبٹ کا نظام شہریوں سے یہ حق چھین لیتا ہے اور بغیر سماعت کے سزا نافذ کرنے کے مترادف ہے، جو “بے گناہ سمجھا جانا” کے بنیادی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔
قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تجویز آئینِ ہند کے آرٹیکل 21 (حقِ حیات و شخصی آزادی) اور آرٹیکل 300-A (حقِ ملکیت) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم شہری کی ذاتی ملکیت ہے اور کسی عدالتی حکم یا قانونی عمل کے بغیر اس پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔اس کے علاوہ، آر بی آئی کے قواعد اور بینکاری قوانین کے تحت کسی بھی اکاؤنٹ سے رقم صرف اکاؤنٹ ہولڈر کی واضح رضامندی یا عدالتی ہدایت پر ہی کاٹی جا سکتی ہے۔ چونکہ بینکاری یونین لسٹ کا موضوع ہے، اس لیے کسی بھی ریاستی حکومت کو اس طرح کا یکطرفہ نظام نافذ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام بینکوں اور صارفین کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔شہری آزادیوں کے حامیوں نے اس تجویز کو حقِ رازداری کے لیے بھی خطرہ قرار دیا ہے، جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک بنیادی حق ہے۔ شہریوں کے بینک ڈیٹا کو چالان کی وصولی کے لیے استعمال کرنا غیر ضروری، غیر متناسب اور مداخلت پر مبنی اقدام بتایا جا رہا ہے۔موٹر وہیکلز ایکٹ کی دفعہ 200 کے تحت شہری کو واضح اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو چالان ادا کرے یا عدالت میں اس کو چیلنج کرے۔
ناقدین کے مطابق آٹو ڈیبٹ اس قانونی اختیار کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے، جو جمہوری اور قانونی تحفظات کے منافی ہے۔شہری و قانونی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نظام کو نافذ کیا گیا تو یہ عملی طور پر “قانونی لُوٹ” کے مترادف ہوگا، جہاں حکومت شہریوں کے بینک اکاؤنٹس کو آمدنی کا آسان ذریعہ بنا لے گی۔تلنگانہ کے عوام کی جانب سے اس آٹو ڈیبٹ تجویز کو فوری طور پر واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے اور حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف آئینی اور قانونی طریقۂ کار پر عمل کرے اور شہریوں کے بنیادی حقوق، رازداری اور املاک کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
News Source : Agency

