حضرت سید نا غوث پا ک ؒ کی سب سے بٹری کر مات پا نچو ں و قتو ں کی نماز وں کی پا بندی ہے, ڈاکٹرشاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری کا خطاب

The most powerful act of Hazrat Syed Na Ghouse Pak (RA) is the observance of five daily prayers, speech by Dr. Shah Khalifa Muhammad Idrees Ahmed Qadri

بیدر :

ہر حال میں نماز پڑھنا فرض ہے ۔فرض نماز وں کے ساتھ ساتھ سنتیں اور نفیلیں کی ادائیگی میں غفلت نہ کریں۔ پانچوں وقتوں کی نمازوں کی پابندی کریں ۔حضرت سید نا غوث پا ک ؒ کی سب سے بٹری کر مات پا نچو ں و قتو ں کی نماز وں کی پا بندی ہے ۔ اگر بندہ کو قلب کی صفائی کرنا ہے تو پہلے پانچوں وقتوں کی نمازوں کی پابندی کرے۔ نماز ہی بندہ کو جنت میں لے جائیگی اللہ کا ذکر کرنے سے قلب کی صفائی ہوتی ہے۔

ان خیالات کااظہار ممتاز پیر طریقت ڈاکٹر الحاج شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری ”صاحب“ بگدلی سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں منعقدہ ماہانہ درس تصوف و جلسہ بعنوان”سیرت غوث الاعظم ؒ “ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے قلب کی صفائی کو بتاتے ہوئے ایک مثال پیش کیا کہ ایک وقت چوروں کا ایک قافلہ گزر رہا تھا کہ بادشاہ کے محل میں پکوان کی بہترین خوشبو آرہی تھی ۔

چوروں کا دل کھانے میں پڑ گیا ایک چور نے کہا یہ شریفوں کی دعوت ہے تو تمام چوروں نے شریفوں جیسے کپڑے اور شریفوں جیسے نام رکھ لئے چوروں کے سردار کا نام قرآن شریف ، وزیر کانام یس شریف اورتیسرے چور کا نام ریحال شریف رکھ کر دعوت میں قطار میں ٹہر گئے جب باب داخلے پر نام پوچھا جا رہا تھا تو پہلے والے شخص کو روک دیا گیا اور دوسرے شخص جس کا نام یس شریف تھا داخلہ دے دیا گیا تیسرے شخص کو بھی روک دیا گیا دوسرے شخص کو اس لئے چھوڑا گیا کیونکہ یس شریف قرآن کا دل ہے اس لئے دل پاک ہوتا ہے۔

چھوڑ دیا گیا جو شخص پانچ وقتوں کی نمازوں کی پابندی کرتا ہے اس کا دل پاک ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک عورت حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں اپنا لڑکا لائی اور کہنے لگی کہ میں اس لڑکے کا دل دیکھتی ہوں کہ آپ کی طرف بہت تعلق رکھتا ہے۔ میں اللہ تعالی کے لیئے اور آپ کے لیئے اپنے حق سے درگزر کرتی ہوں۔ تب آپ نے اس کو قبول کیا اور اس کو مجاہدہ اور ریاضت کے طریق پر چلنے کی تلقین کی۔

پھر ایک روز اس کی والدہ اپنے لڑکے کو ملنے آئی تو دیکھا کہ وہ بھوک اور بیداری کی وجہ سے زرد رنگ کا ہو رہا ہے اور جو کا ٹکڑا کھا رہا ہے۔ پھر وہ حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ کے سامنے بھنی ہوئی مرغی کی ہڈیاں پڑی تھیں جو کہ آپ ابھی کھا کر فارغ ہوئے تھے۔ اس نے کہا اے میرے سردار! آپ خود تو مرغی کھاتے ہیں اور میرا بیٹا جو کی روٹی کھاتا ہے۔ تب آپ نے اپنا دست مبارک ان ہڈیوں پر رکھا اور فرمایا کہ اس اللہ کے حکم سے کھڑی ہو جا جو کہ ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جو کہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی۔

اسی وقت وہ مرغی زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی اور چلائی۔ تب حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جب تیرا بیٹا اس درجہ تک پہنچے گا تو جو چاہے کھائے۔ انہوں نے درس تصوف دیااور دعا فرما ئی ۔مولانامحمد ندیم قادری اُستاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے اپنے پر اثر خطاب میں کہا کہ حضرت سیدنا امام حسین کی سن چار ہجری کو مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کانوں میں اذان دی اور اپنی زبان مبارک آپ کے منہ میں داخل فرمائی اور دعا فرما کر نام نامی حسین عطافرمایا،سیدنا امام حسین کی شہادت نے مردہ ضمیروں کو بیدار کیا،

انداز فکر کو بدلا عظیم انقلاب برپا کرتے ہوئے انسانی اقدار کی عظمت و اہمیت کو فروغ دیا۔ نواسہ رسول سیدنا امام حسین سید نا علی المرتضی اور سیدہ نسائ فاطمہ زہرا کے عظیم فرزند سیدنا امام حسن کے برادر اصغرہیں۔، ابو عبد اللہ آپ کی کنیت، سید، طیب، مبارک، سبط النبی،ریحانہ النبی اور نواسہ رسول القابات ہیں۔حضرت سیدنا امام حسین کا میدان کربلا سے دیا ہوا پیغام اور فلسفہ حق و صداقت دین اسلام کی سربلندی کا روشن نشان ہے،حضرت سیدنا امام حسین کا فلسفہ شہادت صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ایک دستور حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔

مولانا محمد عبدالحمید رحمانی چشتی، صدر کل ہند تنظیم اصلاحِ معاشرہ کمیٹی حیدرآباد نے کہا کہ ماہِ شعبان المعظم نہایت ہی بابرکت اور عظمت والا مہینہ ہے۔ اس مقدس مہینے میں کئی عظیم الشان واقعات رونما ہوئے ہیں۔ 11 شعبان المعظم کو حضرت سیدنا علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت ہوئی، اسی ماہ میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش بھی ہوئی جو تاریخِ اسلام کے روشن اور قابلِ فخر ابواب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہِ شعبان کی پندرہویں شب کو خصوصی فضیلت حاصل ہے، اس شب اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزولِ اجلال فرماتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے: ہے کوئی بندہ جو مجھ سے رحمت طلب کرے؟ ہے کوئی بندہ جو مجھ سے اپنی مغفرت چاہے؟ اس رات اللہ تعالیٰ بے شمار گناہ گار بندوں کو معاف فرماتا ہے۔ مولانا رحمانی چشتی نے مزید کہا کہ اسی ماہ میں بندوں کے سال بھر کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس ماہ میں کثرت سے توبہ و استغفار کرے، نوافل کا اہتمام کرے اور درود و سلام کی پابندی اختیار کرے۔

انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ شبِ برات کے موقع پر مرنے والے بعض بندوں کی روحوں کو ان کے گھروں کی طرف لوٹنے کی اجازت دی جاتی ہے، اسی وجہ سے مسلمان اپنے مرحومین کے لیے ایصالِ ثواب، فاتحہ اور دعا کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ وہ ماہِ شعبان کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگیوں کو شریعت و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ مولانا شاہد رضاءاستاد دارلعلوم قادریہ نے کہا کہ شب برات کی اس مبارک رات رسولِ اکرم ﷺ جنتُ البقیع کے قبرستان تشریف لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ نے اہلِ قبور کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا فرمائی۔

احادیث میں آتا ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی بے شمار مخلوق کی مغفرت فرماتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اسی نسبت سے امتِ مسلمہ اس شب کو عبادت، توبہ و استغفار اور دعاؤں میں بسر کرتی ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں سے فیض یاب ہو سکے۔شہ نشین پر محمد لئیق احمد قادری بگدلی ، اوردیگر معززین موجود تھے۔جلسہ کی کارروائی کا آغاز حافظ محمد شاہنواز نلدرگ ‘کی قراءتِ کلام پاک سے ہوا۔

، محمد سلیم قادری ظہیرآباد ،حافظ محمد شاہنوازنلدرگ حمد ونعت اور منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ شجرہ عالیہ قادریہ کا ورد ، ختم قرآن ، تلاوت یسٰین شریف کا اہتمام کیا گیا۔ سلام و فاتحہ، دعائے سلامتی کے بعدیہ روحانی جلسہ تکمیل پذیر ہوا۔لنگر خانہ قادریہ میں پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیاگیاتھا۔

News Source : M.A. Samad Maju wala