The month of Sha’ban is a blessed month of mercy, forgiveness, and preparation for Ramadan
مضمون نگار: حافظ و قاری مولانا محمد رفیق احمد نظامی
(اپنا ورنگل)
اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ماہِ شعبان اپنی عظمت، روحانی برکتوں اور دینی اہمیت کے اعتبار سے نہایت فضیلت والا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جو رمضان المبارک سے قبل آتا ہے اور اہلِ ایمان کے لیے عبادت، اصلاحِ نفس اور تیاریِ رمضان کا پیغام لے کر آتا ہے، لیکن افسوس کہ آج ایک بڑی تعداد اس ماہ کی قدر و منزلت سے غافل نظر آتی ہے، حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں اس کی خصوصی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
ماہِ شعبان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کا محبوب مہینہ ہے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ شعبان میں کثرت سےروزہ رکھتے ہیں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں رکھتے؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے، لوگ اس کی فضیلت سے غافل رہتے ہیں، حالانکہ اس مہینے میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہِ شعبان غفلت نہیں بلکہ عبادت اور اطاعت کا مہینہ ہے۔
شریعت کے مطابق بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور ماہِ شعبان میں اعمال کے پیش ہونے کی ایک خاص کیفیت ہوتی ہے، اس لیے اس مہینے میں توبہ و استغفار، نیکیوں میں اضافہ اور گناہوں سے بچنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے نفل روزے رکھا کرتے ، تاہم اسلام نے ہر عبادت میں اعتدال کی تعلیم دی ہے، اسی لیے نصفِ شعبان کے بعد نفلی روزوں میں احتیاط کا حکم دیا گیا ہے، سوائے اس شخص کے جو پہلے سے روزے رکھنے کا عادی ہو۔
ماہِ شعبان کی پندرھویں رات شبِ برات کہلاتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور بے شمار بندوں کی مغفرت فرماتا ہے، البتہ مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والا شخص اس عظیم رحمت سے محروم رہتا ہے۔ یہ رات عبادت، دعا، استغفار اور دلوں کو صاف کرنے کی رات ہے، نہ کہ آتش بازی، غیر ضروری رسومات یا بدعات کی۔ شریعتِ مطہرہ ہمیں ہر حال میں قرآن و سنت کی پیروی کا درس دیتی ہے، اس لیے اس مقدس مہینے میں غیر شرعی اعمال سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
ماہِ شعبان دراصل رمضان المبارک کی تیاری کا عملی مہینہ ہے۔ اس دوران نماز کی پابندی، قرآنِ مجید کی تلاوت، صدقہ و خیرات، صلہ رحمی اور حسنِ اخلاق کو اپنانا چاہیے تاکہ رمضان المبارک مکمل روحانی یکسوئی کے ساتھ گزارا جا سکے۔ ماہِ شعبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم غفلت کو چھوڑ کر بیداری اختیار کریں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، سچی توبہ کریں اور رمضان المبارک کا استقبال پاکیزہ دل اور نیک اعمال کے ساتھ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ماہِ شعبان کی قدر کرنے، اس کی برکتیں سمیٹنے اور رمضان المبارک تک ایمان و عافیت کے ساتھ پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
News Source : M.A. Samad Manju wala

