خالق اور انسان کے رشتے کے درمیان قرآن کریم الہامی بریج ہے،عظیم الشان ”قرآن پروچن“ برائے خواتین پروگرام سے محترمہ صبیحہ فاطمہ منگلورو کا خطاب ۔

The Holy Quran is the inspirational bridge between the relationship between the Creator and man, Ms. Sabiha Fatima Mangaluru’s speech at the grand "Quran Prochan” program for women

(اپنا ورنگل)

بیدر :

خواتین کاکنڑی ماہنامہ ”انوپما“ٍمنگلور کی ڈپٹی ایڈیٹر صبیحہ فاطمہ نے کہا کہ قرآن کریم خالق اور انسان کے درمیان مضبوط ومستحکم رشتہ جوڑنے کیلئے ایک بریج اور پل ہے۔جماعت اسلامی ہند، شعبہ ء خواتین بیدرکے زیر اہتمام شہر کے رنگ مندر میں منعقدہ قرآن پروچن کے عظیم الشان پروگرام میں ”امن اور خوشحالی۔قرآن کی روشنی میں“ عنوان پرصبیحہ فاطمہ نے قرآن مجید کے پارہ نمبر 15سورہ اسراء (سورۃ بنی اسرائیل، نمبر 17) کی 23 تا 30 آیات کی تلاوت کی، بعدازاں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ”خالق اورانسان اورپھر انسان اور انسان کاآپسی رشتہ مضبوط ہوگا تو امن اور خوشحالی آئے گی۔’السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ’ دراصل دعا ہے۔ جس میں کہاگیاہے کہ اللہ آپ پر سلامتی، رحمت اور خوشحالی نازل فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امن کی دعا کرنے والے ہیں۔ہمارا رب ایک ہے، ابدی،اور زندہ ء جاوید ہے، اور پوری کائنات کوکنٹرول کررہاہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ زمین پر سب کچھ اسی کا ہے۔ محترمہ نے آگے بتایاکہ ”والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دینا چاہیے۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کے اصول پر عمل کرنے سے ہی معاشرے میں امن قائم ہوگا۔بسوا منٹپ کی سدگرو ماتا ستیہ دیوی نے خطاب کیا اور کہا کہ اس وقت امن کو برقرار رکھنے اور اس کی آبیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ امن ایسی چیز نہیں ہے جو دولت اور بے پناہ وسائل سے حاصل کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ امن خدا کی عبادت، رحمت، مہربانی، انصاف اور مساوات سے حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے محمد ﷺ اور بسونا کو امن اور ہم آہنگی کی علامت قرار دیا۔پرجاپِتابرہما کماری ایشوریہ یونیورسٹی کی پرتیما بہن جی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا محبت، امن اور طاقت کا سمندر ہے۔ سکون صرف اسی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔کمفرٹ زونز اور سائنسی ترقی کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کو تنہائی میں بیٹھ کر خود کا جائزہ لینا چاہیے۔ اسے امن کا مجسمہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔جماعت اسلامی ہند کرناٹک شعبہ ء خواتین کی ریاستی سکریٹری تشکیلہ خانم نے قرآن پروچن کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نفرت، ناانصافی اور عداوت کو چھوڑ کر محبت، انصاف اور مساوات کی پیروی کریں تو امن ممکن ہے۔ ہمارے پیارے وطن بھارت میں ناانصافی اور عدم مساوات دراصل بدامنی ونفرت کی وجہ ہے۔

دل کا سکون اپنے حقیقی رب کو جاننے، پہچاننے اور ماننے میں ہے۔ اس کی یاد میں ہے۔ ہم انسانوں کے باپ(آدم ؑ) اور ماں (حوّا)ایک ہی ہیں۔ برابری اور امن اس احساس سے قائم ہوتا ہے کہ ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔میڈیا انچارج محمد آصف الدین کی پریس نوٹ کے مطابق محترمہ اسماء سلطانہ، کنوینر جماعت اسلامی ہند شعبہ ء خواتین بیدر نے استقبالیہ تقریر کی۔ریاستی اقلیتی کمیشن کی رکن مندیپ کور، شاہین گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کی ڈائرکٹر مہر سلطانہ، بشریٰ جمال سکریڑی وزڈم گروپ آ ف انسٹی ٹیوشنس بیدر، ڈاکٹر مکتوم بی ایم بھالکی، ادیب ڈاکٹر سنیتا کوڈلیکر، ڈاکٹر شیخ سمیہ کلثوم،ڈاکٹر امل شریف، ڈاکٹر سمیہ فاطمہ، ڈاکٹر دیپا نندی، ڈاکٹر وجے شری ایس باشیٹی، بلقیس فاطمہ آئیٹا لیڈیز کنوینر، بتول سعید فاطمہ، ودیاوتی ہیرے مٹھ، ڈاکٹر بشریٰ ایمن صدر جی آئی او بیدر، رقیہ فاطمہ سکریڑی اویسٹر ایکسلنس اسکول بیدر، محکمہ پولیس کی ”اکا پڈے“کی محترمہ سنگیتا موجود تھیں۔پروگرام کا آغاز وائفہ اشرف کی تلاوت قرآن(سورہء یونس ؑ کی آیات 57اور 58) سے ہوا۔ قرآن کی تلاوت کا کنڑ میں ترجمہ حاجرہ بیگم نے پیش کیا۔

افرا ح ناز نے پروگرام کی نظامت کی۔ جماعت اسلامی ہند شعبہ ء خواتین کی ضلعی ناظمہ توحید ہ سندھے نے اظہار تشکر کیا۔ رنگ مندر کے احاطہ میں طلبہ وطالبات کے ذریعہ قرآنی پیغام پرمشتمل نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔سینکڑوں خواتین وطالبات نے نمائش کا مشاہدہ کیا۔ شہر کے مختلف اسکولس و کالجس کی طالبات نے اپنے ڈسپلے رکھے تھے جنہیں انعامات سے نوازاگیا۔ آخر میں ”قرآن پروچن“ میں شریک سبھی خواتین کے لئے ظہرانے کااہتمام کیاگیاتھا۔

News Source : M.A. Samad Manju wala