The Election Commission of India has started a special revision of the voter list in Bihar.
وٹر لسٹ کی مکمل تفصیلات شفاف انداز میں جاری کرے:محمد عبدالقدوس
(اپنا ورنگل)
محمد عبدالقدوس سیاسی و سماجی کارکن نے ایک بیان میں کہا کہ بہار میں الیکشن کمیشن آف انڈیا میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانیشروع کی ہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں ناموں کا اندراج ختم یا درست کیا گیا ہے۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ فوت شدہ،نقل مکانی کرنے والے یا ڈوپلیکیٹ ووٹروں کو لسٹ سے نکالا گیا ہے لیکن عملی طور پر یہ معاملہ نہایت حساس اور سیاسی رنگ اختیار کرگیا ہے۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بالخصوص کانگریس اور آر جے ڈی غیر ملکیوں کو ووٹر بنا کر اپنا ووٹ بینک بڑھانا چاہتی ہیں۔دوسری طرف اپوزیشن اور سماجی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ عمل در اصل مسلمانوں اور اقلیتوں کو ووٹر لسٹ سے مٹانے کی ایک منظم کوشش ہے۔تحقیقی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض حلقوں میں اجتماعی طور پر مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستیں دی گئی ہیں۔اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ انتظامی عمل کہیں سیاسی مقاصد کے تحت تو استعمال نہیں ہور ہا،اگرچہ کچھ سرحدی اضلاع میں غیر ملکی افراد کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔لیکن اس بات کا کوئی مستند ثبوت تک سامنے نہیں آیا کہ اپوزیشن جماعتیں باقاعدہ سازش کے تحت غیر ملکیوں کو ووٹر بنارہی ہے۔یہ صورتحال انتخابی سیاست کو ایک بار پھر ہندو مسلم تقسیم کی طرف دکھیلنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔ایک طرف حکومت کا سخت بیانیہ‘ در اندازوں‘ کے حوالے سے عوام میں خوف پیدا کرتا ہے دوسری طرف اقلیتوں کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔نتیجتاً انتخابی عمل کا اصل مقصد یعنی شفافیت پس منظر میں چلا جاتا ہے اور سیاست محض شناخت کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہوجاتی ہے۔اصل ضرورت اس وقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ کی مکمل تفصیلات شفاف انداز میں جاری کرے،اپیل اور شکایت کے نظام کوتیز اور موثر بنایا جائے،آزاد مبصرین اور سیو ل سوسائٹی اس عمل پر نظر رکھیں،سیاسی قائدین اپنے بیانات میں فرقہ وارانہ زبان سے اجتناب کریں۔بہار کی یہ ریویژن مشق ایک امتحان ہے۔ اگر یہ غیر جانبدداری کے ساتھ مکمل ہوئی تو انتخابی عمل مضبوط ہوگا لیکن اگر اس کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ کٹوتیاں ہوئیں تو یہ ہماری جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی دونوں کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔
News Source : M.F Baig Riaz


