مسجد عثمانیہ میں عقدِ مسعود کی بابرکت تقریب، علما کا نکاح کی اہمیت پر پُراثر خطاب۔

The blessed ceremony of Nikah Ceremony at the Osmania Mosque, an influential speech by scholars on the importance of marriage

(اپنا ورنگل)

بیدر :

بفیضِ روحانی ممتاز پیرِ طریقت حضرت شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی صاحب، سجادہ نشین درگاہ آستانۂ قادریہ بگدل کی سرپرستی میں ونبیری جناب محمد ابراہیم صاحب مرحوم ڈانگے والے محمد جانی میاں (دادا)، جناب محمد عبدالحفیظ صاحب مرحوم چھوٹے منجو والے عرف محمد پاشاہ میاں(نانا) اور جناب محمد اسحاق صاحب مرحوم ڈانگے والے کی دختر کا عقدِ مسعود جناب بشیر علی صاحب، ساکن بیدری کالونی بیدر، کے فرزند محمد شعیب کے ساتھ کل بعد نمازِ مغرب مسجد عثمانیہ، بیدر میں انجام پایا۔

اس بابرکت موقع پر مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی، صدر نائب قاضی بیدر نے ایجاب و قبول کی کارروائی انجام دی اور خطبۂ نکاح پڑھایا، جبکہ مولانا محمد عتیق الرحمٰن رشادی نے پُراثر خطاب کیا۔اس موقع مولانا محمد عتیق الرحمٰن رشادی نے اپنے خطاب میں نکاح کی شرعی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نکاح سنتِ نبویؐ ہے اور ایک پاکیزہ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے میاں بیوی کو باہمی حقوق و فرائض کی ادائیگی، صبر و برداشت، محبت، باہمی احترام اور تقویٰ کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا کہ اختلافات زندگی کا حصہ ہیں، مگر حکمت، مشاورت اور دینی رہنمائی سے انہیں خوش اسلوبی سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ گھر امن و سکون کا گہوارہ بنے۔تقریب میں علماۓ کرام، معززینِ شہر، رشتہ داروں اور احباب کی بڑی تعداد شریک رہی۔ آخر میں دلہا اور دلہن کے لیے خصوصی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اس رشتے کو خیر و برکت عطا فرمائے، محبت و الفت قائم رکھے اور دونوں خاندانوں کو خوشیوں سے نوازے۔ آمین۔

کل ہی بعد نماز عشاء ملن فنکشن ہال بیدر میں پرتکلف ضیافت اوراج مغل گارڈن فنکشن ہال بیدر میں پرتکلف ضیافت ولیمہ کا اہتمام کیا گیا ۔اہلیہ جناب محمد اسحاق صاحب کی سر پر ستی-اور جناب بشیر علی کی نگرانی۔اور محمد عبدالصمد منجووالا صحافی سرپرستی میں۔محمد یونس ۔محمدتنویر۔محمد شہباز۔سید یحئ ۔محمد عبدالعزیر سلوئ ویڈیو گرافر-محمد اسمئیل سعید۔محمد فیاض ایڈیٹر سیاسی سماچار-محمد امتیاز ڈانگے والے اور محمد اسحاق صاحب مرحوم و بشیر علی فیملی نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔

News Source : M.A. Samad Manju wala