(اپنا ورنگل)
تلنگانہ جاگروتی دفتر میں آج تلنگانہ جاگروتی ٹیچرس فیڈریشن (T.J.T.F) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر فیڈریشن کا لوگو تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے اپنے ہاتھوں سے جاری کیا۔ بعد ازاں کلواکنٹلہ کویتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ جاگروتی کو مضبوط بنانے میں اساتذہ نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران “کوٹی بتکماں ” جیسے بڑے پروگراموں کو کامیاب بنانے میں بھی اساتذہ نے ہی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ جاگروتی ٹیچرس فیڈریشن کے قیام کا خیال ویربھدر راؤ نے بارہ سال قبل پیش کیا تھا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا جائے۔
کویتا نے کہا کہ جاگروتی ٹیچرس فیڈریشن ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر سماجی اور تعلیمی ترقی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عظیم مفکر پروفیسر جیا شنکر سر ان کے پسندیدہ استاد ہیں، جنہوں نے تلنگانہ کے نظریے کو عوام کے دلوں تک پہنچایا۔ تلنگانہ تحریک میں اساتذہ کا کردار ناقابل فراموش ہے، انہوں نے جیلوں میں رہ کر بھی تلنگانہ کے نقشے، کوئز اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعہ شعور بیدار کیا۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل میں اساتذہ نے جو قربانیاں دی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے مسائل کے لیے آواز اٹھائی جائے۔ “جب استاد خوش ہوگا تو شاگرد خوش ہوگا، اور جب شاگرد خوش ہوگا تو اس کا گھرانہ بھی خوشحال ہوگا”۔ لیکن افسوس ہے کہ موجودہ حکومت نے اساتذہ پر انتظامی کام کا بوجھ بہت بڑھا دیا ہے۔ ہر کام آن لائن ہونے کے سبب اساتذہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ اسکولوں میں اضافی انتظامی عملہ مقرر کیا جائے تاکہ اساتذہ کو تدریس پر توجہ دینے کا موقع ملے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے پی آر سی کا نفاذ فوری طور پر کیا جائے، بقیہ 5 ڈی اے اقساط فوراً ادا کی جائیں، اور جن اساتذہ کے پاس ہیلتھ کارڈ نہیں ہیں انہیں فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔
کویتا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی حالت نہایت ابتر ہے، دو سال گزر جانے کے باوجود ان کے ریٹائرمنٹ بینیفٹس جاری نہیں کیے گئے۔ “ایک سرکاری ملازم اپنی زندگی بھر کی محنت کے بعد گھر یا بچوں کی شادی کے لیے انہی فوائد پر بھروسہ کرتا ہے، لیکن آج وہ مایوس ہے۔”
انہوں نے کہا کہ KGBV (کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ) اسکولوں کی خواتین اساتذہ کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں، لہٰذا دیوالی سے پہلے ان کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ “یکساں کام کے بدلے یکساں تنخواہ” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے KGBV ٹیچرس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
کویتا نے مزید کہا کہ گروکل اسکولوں کے مستقل اساتذہ سے ہاسٹل ڈیوٹیاں لینا بند کیا جائے، اس کے لیے کیر ٹیکرز اور وارڈنز مقرر کیے جائیں۔ گروکل اور ماڈل اسکولوں کے اساتذہ کو سوسائٹی فنڈز کے بجائے حکومت کی جانب سے براہ راست تنخواہیں دی جائیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی جے ٹی ایف (Telangana Jagruthi Teachers Federation) تمام موجودہ اساتذہ تنظیموں کو ساتھ لے کر آگے بڑھے گی، تاکہ اجتماعی طور پر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
کویتا نے پرانی پنشن اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں متعارف کردہ نئی پنشن اسکیم کو منسوخ کیا جائے اور سابقہ نظام کو بحال کیا جائے۔
انہوں نے کھیلوں کے شعبے پر طنز کرتے ہوئے کہا، “وزیرِاعلیٰ صاحب اولمپکس میں میڈل جیتنے کی بات کرتے ہیں، لیکن اسکولوں میں P.E.T (فزیکل ایجوکیشن ٹیچرز) ہی نہیں ہیں، تو میڈلز کیسے آئیں گے؟”
کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹرائبل ویلفیئر اور سرو شکشا ابھیان کے اساتذہ کی تنخواہیں فوراً ادا کی جائیں، اور جو اساتذہ 2010 سے پہلے بھرتی ہوئے تھے انہیں TET امتحان سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح تلنگانہ تحریک میں تمام طبقے متحد ہوئے تھے، اسی طرح ٹی جے ٹی ایف بھی تمام پرانی تنظیموں کو ساتھ لے کر چلے گی۔
اپنے خطاب کے آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو سیاسی تربیت دینے کے لیے نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سکھانے کے لیے عوامی پروگراموں میں ساتھ لاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی سی بندھ کے دوران بھی ان کے بیٹے نے خود شرکت کی خواہش ظاہر کی تھی۔
کویتا نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی سی بند کو بی جے پی کی حمایت شرمناک ہے۔ “جنہیں بی سی طبقات کو ریزرویشن دینا چاہیے، وہی دھرنوں میں شریک ہیں ، یہ دوہرا معیار ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مرکز میں مودی حکومت واقعی بی سی طبقات کے لیے مخلص ہے تو تلنگانہ کے آٹھ بی جے پی اراکین پارلیمنٹ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیں، کیونکہ “اگر وہ استعفیٰ دیتے ہیں تو بی سی بل خود بخود آگے بڑھے گا۔
کویتا نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی ارکان مستعفی نہ ہوئے تو ان کے خلاف احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔ “بی سی ریزرویشن کے لیے ہم پہلے ہی کئی دھرنے کر چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ تحریک کو سیاسی رخ دیا جائے جیسے تلنگانہ تحریک کو عوامی طاقت نے کامیاب کیا، ویسے ہی بی سی ریزرویشن کی تحریک کو بھی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اس موقع پر تلنگانہ جاگروتی ورکنگ صدر ایل۔ روپ سنگھ نائک، جنرل سکریٹری نوین آچاری، ۔ صدر تلنگانہ جاگروتی میناریٹی ونگ محمد مصطفٰی اور دیگر قائدین موجود تھے۔
News Source : Agency


