مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس، اوٹکور میں قبرستان پر منی اسٹیڈیم کی تجویز پر ہنگامہ.

Strong protest against attempted demolition of Utkoor Muslim Grave Yard, JCB machine stopped on the spot

(اپنا ورنگل)

اوٹکور:

نارائن پیٹ: ریاستی وزیر واکٹی سری ہری کی ہدایت پر اوٹکور منڈل کے قدیم مسلم قبرستان کو صاف کرکے منی اسٹیڈیم بنانے کی تجویز کے خلاف مسلمانوں میں شدید برہمی پائی جا رہی ہے۔ مجلس متحدہ ضلع محبوب نگر کے انچارج کوآرڈینیٹر جابر بن سعید الجابری، مجلس اتحاد المسلمین ضلع صدر محمد عبدالہادی ایڈوکیٹ، حسن آباد مسلم قبرستان کمیٹی صدر محمد پاشاہ اور دیگر قائدین نے اس عمل کو بی جے پی کی فرقہ پرست عناصر کو ہوا دینے کی مذموم کوشش قرار دیا۔

قائدین نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ عہدیداران نے مسلم نمائندہ افراد سے گفت و شنید اور اعتماد میں لیے بغیر جے سی بی مشین کے ذریعے قبرستان کی صفائی اور قدیم قبروں کی مسماری کا آغاز کیا، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اوٹکور کے مسلمانوں نے فوری حرکت میں آتے ہوئے کام روکوا دیا اور قبرستان کے تحفظ کے لیے کوششوں کو بھرپور سراہا۔مجلس قائدین نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاستی وزیر نے مسلم ووٹوں کی مدد سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اس کے باوجود مسلم قبرستان کی مسماری جیسا عمل ناقابل برداشت ہے اور اس طرح کے غیر قانونی اقدامات سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ منی اسٹیڈیم کے لیے متبادل اور مناسب اراضی کی شناخت کی جائے۔ قائدین نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات روکے نہ گئے تو مسلمانوں کو شدید احتجاج پر مجبور ہونا پڑے گا۔اس موقع مقبول احمد، محمد اسماعیل، شیخ سمیع، عبدالرحیم اور دیگر مسلم قائدین نے فوری طور پے موقع پر پہنچ کر جے سی بی مشین کو روکا اور کہا کہ اس دو سو سالہ قدیم قبرستان میں آج بھی تدفین جاری ہے اور یہ مسلمانوں کے جذبات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

News Source : Mohd. Zain ur Rahman