Strategy for Uplifting and Empowering the Ummah- Intellectuals Meet Organised by: Jamaat e Islami Hind Warangal City
(اپنا ورنگل)
ورنگل :
جماعتِ اسلامی ہند ورنگل سٹی کے زیرِ اہتمام انٹل ایکچول میٹ – امت کی ترقی اور سربلندی کا لائحۂ عمل” کے عنوان سے ایک فکری و اصلاحی نشست اسلامک انفارمیشن سنٹر، پوچما میدان، ورنگل میں منعقد ہوئی۔ پروگرام کا اغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس نشست کی صدارت مجتبیٰ فاروق رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ جماعتِ اسلامی ہند نے فرمائی۔ جب کہ ڈاکٹر مجاہد عرفان نے خصوصی خطاب سے حاضرین کو فکری رہنمائی فراہم کی۔ پروگرام کی نظامت عبداللہ فیض الرحمن نے انجام دی۔
فکری و اصلاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مجاہد عرفان نے کہا کہ امتِ مسلمہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظیم ذمہ داری عائد کی گئی ہے، جس کا مقصد سماج سے برائیوں کا خاتمہ اور دینِ اسلام کی بالادستی ہے۔ انہوں نے سورۂ انفال کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کی کشمکش میں اہلِ ایمان کو اپنی تمام قوتوں کو یکجا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قوت محض ظاہری نہیں بلکہ فکری و نظریاتی، معاشی و اقتصادی اور سیاسی شعور پر مبنی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق آج امت کا طرزِ عمل حد سے زیادہ دفاعی ہو چکا ہے، جہاں ہر نئے مسئلے پر محض ردِعمل دکھایا جا رہا ہے، جب کہ مستقبل کے لیے کوئی واضح بلیو پرنٹ یا دس سالہ جامع منصوبہ بندی موجود نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک منظم ایکشن پلان تیار نہیں کیا جائے گا، حالات میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں۔
اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے جناب مجتبیٰ فاروق نے کہا کہ دینِ اسلام صرف ظاہری عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جس کی اصل روح، مقصد اور اسپرٹ کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عبادات محض روٹین بن جائیں تو ان کی روح ختم ہو جاتی ہے، جب کہ نبی اکرم ﷺ نے دین کو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ بنایا۔

انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ قیادت تعداد سے نہیں بلکہ وژن، معیار، تعلیم اور عزم و وابستگی سے وجود میں آتی ہے۔ مدینہ کے سماجی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مذاہب اور قبائل کو ساتھ لے کر مثالی سماجی ہم آہنگی قائم کی، جو آج بھی جمہوری اور سماجی نظام کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
دونوں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو آپسی انتشار ختم کرنا ہوگا، تعلیمی پسماندگی، خاندانی مسائل اور سماجی بگاڑ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کرنا ہوگا اور محض دعاؤں پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی جدوجہد، مشاورت اور کردار سازی کو اختیار کرنا ہوگا۔ مقررین کے مطابق یہی امتِ مسلمہ کی بقا، ترقی اور سربلندی کا واحد راستہ ہے۔
اس موقع پر شاہد مسعود،ریجنل ڈائرکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن ورنگل کے علاوہ ہنمکنڈہ اور ورنگل کے معززین، دانشوران، ڈاکٹروں، وکلا اور صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔مفتی منہاج قیومی کی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا ۔

News Source : M.F. Baig Riaz

