SIR can be implemented in the state at any time, negligence will lead to deprivation of votes, says Mufti Iftikhar Ahmed Qasmi
(اپنا ورنگل)
بیدر :
جمعیت علماء بیدر کے زیر اہتمام یس آئی آر special intensive revision کے تعلق سے شعور بیداری کےلئے دفتر جمعیت علماء بیدر میں ایک مذاکرتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیت علماء کرناٹک نے تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی اور اپنے فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ یہ ملک ہمارے بزرگوں کو ملاتھا ہم نے آٹھ سو سال تک یہاں حکومت کی پھر ہماری نا اہلی کی وجہ سے یہ ملک چھین لیا گیا ا ور انگریز اس پر قابض ہوگئے ۔اللہ کا دستور ھے نعمتوں کے ملنے پر اگر شکر بجا لایں گے تو نعمتوں میں اضافہ ہوگا اور نا شکری کریں گے تو نعمتیں چھین لی بھی جایں گی اور آزمایش میں مبتلا کر دیے جایں گے ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا ملک چھین لیا گیا غلامی کی زنجیریں پہنا دی گیں اس کے بعد دو سو سال کی جدو جہد و قربانی سے غلامی سے آزادی ملی اور ہمارا ملک آزاد ہوا ہمارے بزرگوں نے دور اندیشی سے اس ملک کی تقسیم کی مخالفت کی لیکن کچھ نا عاقبت اندیش لوگ اقتدار کی ہوس کےلئے ملک کو دو حصوں میں۔
تقسیم کردیا مگر خوش نصیبی سے ملک کو جمہوری قرار دیا گیا جن لوگوں کو ملک کی جمہوریت پسند نہیں تھی وہ لوگ خاموش نہیں رہے اور اسکے خلاف میں کام کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اس میں کامیاب ہو گئے اور آج ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں آ گئی اور وہ جمہوریت کو ختم کرنے کی کو شش کر رہے ہیں آج ملک میں وہی کچھ ہو رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں صرف نام کا جمہوری ملک رہ گیا ہے ووٹوں کی ہیرا پھیری سے اقتدار میں آکر حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر اپنی ذہنیت کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ہے ۔
اب وہ ہم سے ووٹ کا حق بھی چھین لینا چاہتے ہیں NRC اور CAA قانون لانے میں ناکامی کے بعد SIR لاگو کر کہ ہم سے ہمارا ووٹ کا حق چھین لینا چاہتے ہیں جو ہمارے لیے انتہائ سنگین مسئلہ ہے اگر ہم SIR میں حصہ نہیں لیں گے اور خاموشی اختیار کر لیں گے تو الیکشن کمیشن خود بخود ووٹر لسٹ سے ہمارا نام نکال دے گا اور اگر SIR میں حصہ لیتے ہیں تو ہمارے کاغذات میں غلطیاں نکال کر اس کو رد کر دیں گے اور ایسا بہار میں ہوا ہے یعنی دو دھاری تلوار ہم پر لٹک رہی ہے ۔
ہر دو طرح سے ہمکو زد پہنچانا چاہتے ہیں دیہات کے مسلمانوں کو اس سے بہت زیادہ نقصان پہونچے گا کیونکہ ان میں شعور بیداری کی کمی ہے جب ووٹ کا حق SIR کے زریعے چھین لیا جائے گا تو پھر دوسرا قانون لاکر حکومت کی اسکیموں اور مراعات سے محروم کر دیا جائے گا اور اس طرح ہم دو نمبری شہری بن کر رہ جائیں گے موجودہ حکومت اس طرح کی سازش اور پلان بنا رہی ہے ۔ یہ بہت اہم کام ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے SIR میں بارہ دستاویزات تیار کرنا ہے اگر دستاویزات موجود ہیں تو تمام میں یکسانیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔
ناموں میں اسپیلنگ اور تاریخ پیدائش میں یکسانیت ضروری ہے ابھی کرناٹک میں SIR کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن آنے والے دنوں میں ہونا یقینی ہے علمائے کرام سے گزارش ہے کہ جمعہ کے خطبوں میں فرض نماز کے فوری بعد پانچ منٹ لوگوں کو اسکی جانکاری دیں اور درپیش خطرات سے آگاہ کریں اور ہر ہفتہ اتوار کو محلوں میں کیمپ لگا کر اس پر کام کریں اور لوگوں کی رہنمائی کریں.آخر میں سوال وجواب کا سیشن رکھا گیا تھا تمام سوالات کا تشفی بخش جواب دیا گیا مولانا محمد تصدق ندوی صدر جمعیت علماء بیدر کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
News Source : M.A. Samad Manju wala

