شب برات فیصلہ اور رضامندی اور قبولیت کی رات ہے شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی کی مخاطبت۔

Shab-e-Barat is the night of decision, consent and acceptance. Address by His Highness Sheikh Khalifa Dr. Al-Hajj Muhammad Idrees Ahmed Qadri Bagdali.

(اپنا ورنگل)

بیدر:

شب برات فیصلہ اور رضامندی اور قبولیت کی رات ہے، سعادت، سخاوت اور کرامت کی رات ہے اس رات میں موت وحیات کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔حضرت علی ؓ مولائے کائنات سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا جب شعبان کی پندرھویں تاریخ آئے تو اس رات میں عبادت کرو اور اس کے دن میں روزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات میں غروب شمس کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ ہے کوئی مجھ سے مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں،ہے کوئی مجھ سے روزی مانگنے والا میں اس کو روزی دوں، ہے کوئی مصیبت میں پھنسا ہو اُس کو کہ اس کی عافیت و سلامتی عطا کروں وغیرہ،اس طرح کا اعلان فجر تک ہوتا رہتاہے۔

ان خیالات کااظہار شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری ”صاحب“ بگدلی سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل نے درگاہ آستانہ قادریہ بگدل میں منعقدہ جلسہ فضائل شب برأت کے مرکزی جلسہ کو بحیثیت نگران جلسہ مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنت و نوافل کا احترام کریں۔یہ بہت مبارک رات ہے اس رات میں نوافل کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کریں۔آپ تمام زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، ذکر و اذکار کریں۔

آج کی مبارک رات کواللہ کی عبادت میں گزاریں۔ ہمیشہ اچھائی کے کام انجام دیں اور برے کام سے اجتناب کریں۔انہوں نے شب برات کے بیشمار فضائل پرسیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی کریں۔انہوں نے شب برا ء ت پر سیر حا صل روشنی ڈالتے ہوئے دعائے سلامتی فرمائی۔ اس موقع پر مولانامحمد ندیم قادری، مولانا محمد شاہد رضاء خطیب مسجد مدینہ و استاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے کہا کہ علامہ صفوری ؒنے ایک عجیب و غریب واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک پہاڑ کے پاس ایک خوبصورت گول پتھر ملاخطہ فرمایا تو اسکے اطراف گھومنے لگے۔

وحی الہی آئی کہ اے عیسی کیا اس پتھر کے اندر کا راز تم پر ظاہر کر دوں۔ آپ نے اشتیاق ظاہر کیا تو پتھر شق ہو گیا اور آپ نے دیکھا کہ اندر ایک شخص عبادت میں مصروف ہے اسکے قریب ایک انگور کی تازہ بیل ہے اور پاس ہی ایک نہر بھی جاری ہے۔ دریافت پر اس شخص نے کہا کہ میں یہی انگور کھاتا ہوں اور اسی نہر کا پانی پیتا ہوں پھر اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاتا ہوں۔ میرا یہ معمول چار سو برس سے اسی طرح جاری ہے۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا الہی اس عابد کی جیسی عبادت تو شاید تیرے کسی بندے نے بھی نہیں کی ہوگی تو ارشاد باری ہوا۔ اے روح اللہ میرے محبوب محمد صلی علیہ السلام کی امت میں سے جو کوئی بھی شعبان کی پندرھویں رات میں صرف دو رکعت نماز پڑھے گا تو وہ امتی ثواب میں اس عابد کی چار سو برس کی عبادت سے افضل اور بہتر ہوگا۔ یہ سن کر حضرت عیسی علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے یہ آرزو فرمائی کہ یا رب تو مجھے حضرت محمد ﷺ کی امت میں داخل فرمادے۔

محمد لئیق احمد قادری بگدلی، ودیگرنے،شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری ”صاحب“ بگدلی کی گلپوشی فرمائی۔شہ نشین پر محمد لئیق احمد قادری بگدلی و دیگر موجود تھے۔ جلسہ کی کاروائی کا آغاز حافظ محمد شاہ نواز کی قرأ ت کلام پاک سے ہوا۔حافظ محمد شاہ نواز نلدرگ، محمد علاؤالدین موذن مدینہ مسجد،محمد سلیم قادری نے حمد و نعت، منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔فاتحہ، سلام،تقسیم تبرکات اور دعائے سلامتی کے بعد جلسہ تکمیل پذیر ہوا۔

News Source : M.A. Samad Manju wala