راشن کارڈ کے کے وائی سی میں عوام کو دشواریاں، حکومت فوری توجہ دے: بی آر ایس سینئر رہنمافہیم قریشی۔

People are facing difficulties in KYC of ration cards, government should pay immediate attention: BRS senior leader Faheem Qureshi

(اپنا ورنگل)

نظام آباد :

فہیم قریشی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کے وائی سی کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر کی گئی تھی، مگر زمینی حالات یہ ہیں کہ ابھی تک عوام کی ایک بڑی تعداد کا کے وائی سی مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ کئی علاقوں میں راشن کی دکانوں کا بند رہنا، عملہ کی کمی اور تکنیکی مسائل ہیں، جس کی وجہ سے عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نظام آباد شہر اور اطراف کے علاقوں میں عوام اب بھی راشن کارڈ کے کے وائی سی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔

راشن کی تقسیم میں پہلے ہی تاخیر ہو رہی ہے اور اب کے وائی سی کی شرط نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ راشن کارڈ دکانوں پر صبح سے شام تک لمبی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جن میں بزرگ، خواتین اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔فہیم قریشی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے پہلے راشن کی تقسیم کو متاثر کیا اور اب کے وائی سی کے مسئلہ کو لازمی بنا کر عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے تمام انتظامات مکمل کرتی اور اس کے بعد کے وائی سی کی شرط عائد کرتی، مگر اس کے برعکس عوام کو بغیر تیاری کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نظام آباد ضلع کلکٹر اور کانگریس حکومت عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کے وائی سی کی آخری تاریخ میں توسیع کریں اور اسے 31 جنوری تک بڑھایا جائے، تاکہ تمام راشن کارڈ رکھنے والے افراد آسانی اور اطمینان کے ساتھ اپنا کے وائی سی مکمل کر سکیں۔

آخر میں فہیم قریشی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اس مسئلہ پر توجہ نہ دی تو بی آر ایس پارٹی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے سے بھی گریز نہیں کرے گی، جس کی پوری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

News Source : Nadeem Ahmed