Online harassment against female Journalists in Hyderabad, Police Commissioner VC Sajjanar assures strict action
(اپنا ورنگل)
حیدرآباد:
خواتین صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات پر سخت کارروائی کی یقین دہانی حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے دی ہے۔ منگل کے روز آزاد صحافی تلسی چندو سمیت کئی خواتین صحافیوں نے کمشنر پولیس سے ملاقات کرکے تحریری شکایت پیش کی۔ انہوں نے اپنے خلاف جاری مسلسل ٹرولنگ، دھمکیوں اور نازیبا حملوں کی تفصیلات بیان کیں۔خواتین صحافیوں کے وفد نے کمشنر کو متعدد ویڈیوز دکھائیں جن سے ٹرولنگ کی نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کئی سوشل میڈیا ہینڈلز باقاعدہ مہم کے طور پر نفرت انگیز تبصرے، نازیبا پوسٹس اور بدزبانی کے ذریعے خواتین صحافیوں کو خوفزدہ اور بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔کمشنر سجنار نے تمام لنکس، اسکرین شاٹس اور ویڈیوز اپنی ٹیم کے حوالے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا، “ہم کارروائی کریں گے، آپ جلد نتائج دیکھیں گے، کارروائی کے بعد دوبارہ گفتگو ہوگی۔

”خواتین صحافیوں نے اپنی تحریری شکایت میں کہا کہ ان کے خلاف منظم آن لائن ہراسانی کی مہم جاری ہے۔ چند مخصوص اکاؤنٹس نہ صرف غلیظ تبصرے کرتے ہیں بلکہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اور توہین آمیز ویڈیوز بھی شیئر کرتے ہیں۔ بعض نے تو ان کے رہائشی پتے تک افشا کرنے کی بات کی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹرولنگ کا مقصد انہیں خوفزدہ کرنا اور پیشہ ورانہ کام میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
مزید کہا کہ بعض ہینڈلز مذہبی اور سماجی نفرت پھیلانے والا مواد بھی بڑے پیمانے پر پوسٹ کررہے ہیں۔ خواتین صحافیوں نے پولیس سے اپیل کی کہ متعلقہ افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر آن لائن یا فزیکل تحفظ فراہم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں میڈیا کی آزادی پر حملہ ہیں اور خواتین کی عزت و وقار کے خلاف ہیں۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے پیش کردہ شکایات کا جائزہ لے کر مناسب قانونی کارروائی کرنے کا یقین دلایا ہے۔
News Source : Agency

