Negligence at a government hospital in mahabubabad a living patient was placed in the mortuary
محبوب آباد :
(اپنا ورنگل)
تلنگانہ کے ضلع محبوب آباد کے سرکاری ہاسپٹل میں پیش آئے ایک چونکا دینے والے واقعہ نے محکمہ صحت کے نظام پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہاسپٹل کے عملے کی سنگین لاپرواہی کے نتیجے میں ایک زندہ مریض کو مردہ سمجھ کر مردہ خانہ میں رکھ دیا گیا، جس کے بعد ہاسپٹل میں افرا تفری مچ گئی۔ت
فصیلات کے مطابق روی نامی ایک ٹریکٹر ڈرائیور، جو گردوں کی تکلیف میں مبتلا تھا، تین روز قبل علاج کے لیے ہاسپٹل پہنچا۔ تاہم، عملے نے آدھار کارڈ اور تیماردار کی غیر موجودگی کا بہانہ بنا کر اسے داخلہ دینے سے انکار کر دیا۔ مجبورا وہ دو دن تک ہاسپٹل کے احاطے میں ہی پڑا رہا۔اسی دوران وہ کسی طرح مردہ خانے میں جا پہنچا۔ صفائی کے عملے نے جب وہاں حرکت محسوس کی تو گھبرا گئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ روی زندہ ہے، جس کے بعد اسے فوری طور پر علاج وارڈ میں منتقل کیا گیا اور علاج کا آغاز ہوا۔
واقعہ کے منظر عام پر آتے ہی ہاسپٹل انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔ آر ایم او نے میڈیا سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ بغیر آدھار یا تیماردار کے بھی کسی مریض کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس افسوسناک واقعہ کی مکمل تحقیقات کروائی کی جائیں گی اور لاپرواہی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔بتایا جاتا ہے کہ روی ضلع محبوب آباد کے چناگوڑور منڈل کے جئیارم گاؤں کا رہنے والا ہے۔ عوامی حلقوں نے اس واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ہاسپٹل میں مریضوں کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنایا جائے۔
News Source : Mohd. Mushtaq


