اسکول یونیفارم میں شراب خریدنے پہنچی نابالغ لڑکیاں — ویڈیو وائرل، دکان مالک پر 2 لاکھ روپے جرمانہ

Minor girls wearing school uniforms caught buying alcohol

(اپنا ورنگل)

مدھیہ پردیش: اسکولی یونیفارم میں شراب خریدنے پہنچی نابالغ لڑکیاں، دکاندار پر 2 لاکھ روپے جرمانہمنڈلا (مدھیہ پردیش): منڈلا ضلع کے نینپور گاؤں میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک سرکاری اسکول کی چند طالبات اسکولی یونیفارم میں شراب خریدنے کے لیے ایک دکان پر پہنچ گئیں۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور آبکاری محکمہ حرکت میں آگیا۔

ہفتہ کے روز چند طالبات نے اسکول یونیفارم میں چہرے دوپٹے سے ڈھانپ کر شراب خریدی اور فوراً موقع سے چلی گئیں۔ دکان کے قریب موجود ایک سماجی کارکن خاتون نے یہ پورا واقعہ کیمرے میں قید کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا، جو تیزی سے وائرل ہوگیا۔ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی ضلع کلیکٹر کی ہدایت پر ایس ڈی ایم آشو توش ٹھاکر فوری طور پر موقع پر پہنچے، دکان کا معائنہ کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی۔

ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ دکاندار نے واقعی اسکولی طالبات کو شراب فروخت کی تھی۔ایس ڈی ایم نے وضاحت کی کہ نابالغوں کو شراب یا کسی بھی نشہ آور شے کی فروخت لائسنس کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے آبکاری محکمہ کو ہدایت دی کہ اس واقعے کی مکمل جانچ کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد آبکاری انسپکٹر سیلی اوئیکے اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچیں اور تفصیلی تفتیش شروع کی۔ ضلع آبکاری افسر رام جی پانڈے نے بتایا کہ فی الحال یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا شراب خریدنے والی لڑکیاں واقعی 18 سال سے کم عمر ہیں یا نہیں۔ اگر وہ نابالغ ثابت ہوئیں تو دکاندار کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

ابتدائی مرحلے میں انتظامیہ نے دکان مالک پر 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے، جبکہ دکان کے باہر ایک تنبیہی بورڈ
ابتدائی کارروائی کے طور پر انتظامیہ نے شراب کی دکان کے مالک پر 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے، جبکہ دکان کے باہر ایک تنبیہی بورڈ لگا دیا گیا ہے جس پر واضح طور پر لکھا ہے:
“نابالغوں کو شراب فروخت کرنا غیر قانونی ہے — خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔”

News Source : Agency