مسلم اسکولوں، قبرستانوں اور عیدگاہوں کے لیے زمین دی جائے : جمعیت علما تلنگانہ وآندھرا پردیش کا مطالبہ۔

Land should be given for Muslim Schools, Grave Yards and Eidgahs: Demand of  Jamiat Ulama Telangana and Andhra Pradesh

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد:

مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت العلماء، تلنگانہ و آندھرا پردیش  نے اپنے پریس نوٹ میں حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈسٹریل یوز کے لئے الاٹ کردہ نو ہزار تین سو ایکڑسے زائد اراضی جو اس وقت میں ملٹی زون کر رہی ہے، اس میں سے پانچ سو ایکڑ اراضی مسلمانوں کے اور اقلیتوں کے سکول، کالیجز، قبرستانوں اور عیدگاہوں کے لئے مختص کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب تلنگانہ حکومت نو ہزار ایکڑ اراضی میں لوگوں کو بسانا چاہتی ہے جس میں ریزیڈنشل علاقے بھی بنیں گے کمرشیل علاقے بھی بنیں گے اور مختلف کاموں کے لئے نو ہزار ایکڑ اراضی استعمال کی جائے گی تو یقیناً اس سے آبادی بڑھے گی اور مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بھی بڑھے گا اور ان کی جو بنیادی ضروریات ہیں۔

جیسے سکولز،کالیجز، عیدگاہیں ، قبرستان ہیں اس کے لئے بھی اراضی فی الفور مختص کی جائے، انہوں نے کہا کہ ہر علاقے اس کے تناسب کے لحاظ سے اور جو علاقے مسلم بستیوں کے قریب میں ہیں وہاں اس کے تناسب سے مسلمانوں کی ضروریات کی تکمیل کرنے کے لئے فی الفور جگہ مختص کی جائے انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت یہ نہ بھولے کہ وہ مسلمانوں کے تعاون اور ان کے ووٹ سے اقتدار میں ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے سنجیدہ مظاہرہ کرے۔

اس موقع پر جمیعت العلما تلنگانہ وآندھرا پردیش کے صدر حضرت مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی دامت برکاتہم نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملٹی زون کرنے سے پہلے ان زونز میں عیدگاہ قبرستان اور میناریٹی اسکول اور کالجس کو بھی شامل کرے،جمیعت العلما کے نائب صدور حضرت مولانا مفتی اعتمادالحق صاحب حافظ فہیم الدین منیری صاحب مولانا فصیح الدین ندوی صاحب حافظ جہانگیر فیضی صاحب اور دیگر حضرات نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کرے ان حضرات نے کانگریس کے مسلم قائدین اور بالخصوص اقلیتی منسٹر اظہرالدین اور جناب فہیم قریشی صاحب اور محمد علی شبیر صاحب ایڈوائزر چیف منسٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کے عالی ذمہ داروں کو اور چیف منسٹر کو آمادہ کریں کہ وہ مسلمانوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اس میں سے وافر حصہ متعین کریں۔

News Source : Agency