اردو کو زندہ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے،گھروں میں اردو اخبار رکھنے کی اپیل، تاکہ زبان سے شغف باقی رہے.

"Keeping Urdu alive is the need of the hour” "Appeal to keep Urdu newspapers in homes, so that passion for the language remains”

ورنگل میں بزم گلشن ادب کا کل ہند مشاعرہ۔وحید گلشن،، شاہد مسعود،ڈاکٹر انیس صدیقی کا خطاب۔

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

شاہد مسعود ریجنل ڈائرکٹر میونسپل اڈمنسٹریشن نے کہاکہ اردو زبان انسانی تہذیب کا مظہر ہے یہ زبان ہماری مادری زبان ہونے کی وجہ سے انسان کے اپنے خیال کے اظہار کا موثر ذریعہ ہے۔ہمیں اس جانب توجہ دینا ضروری ہے کہ اردو والوں کو بھی اپنے جذبہ کے ایثار کے ساتھ اردو زبان کے فروغ کے لئے موثر اقدامات کرنے ہونگے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اردو کو زندہ رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ وہ قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنی مادری زبان کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کرتی ہیں۔

کیونکہ زبان قوم کا عظیم اثاثہ ہوتاہے۔ شاہد مسعود نے بزم گلشن ادب کے زیر اہتمام اے ون فنکشن ہال ایل بی نگر ورنگل میں ڈاکٹر انیس احمد صدیقی کی صدارت میں منعقدہ ’کل ہند مشاعرہ‘ میں بہ حیثیت مہمان خصوصی مخاطب کیا۔پروگرام کاآغاز عبید الرحمن عمری کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ مولانا ارقم نے مناجات پیش کئے،قاری عبداللہ عمری نے نعت کا نذرانہ پیش کیا۔ محمد شکیل احمد منیجنگ ڈائرکٹر جے بی ایم لمٹیڈ نے اعزازی مہمان کی حیثیت شرکت کی۔کنونیر مشاعرہ وحید گلشن نے مشاعرہ کی نظامت کی۔اس موقع پر اردو اکیڈیمی تلنگانہ کی جانب سے مسعود مرزا محشر شاعر و ادیب کو کارنامہ حیات ایوارڈ کے اعلان پر ان کی کثرت سے گلپوشی و شالپوشی کرتے ہوئے تہنیت پیش کی۔

شاہد مسعود نے اپنی تقریرکوجاری رکھتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے نوجوان نسل اردو سے بیزارگی کا اظہار کررہی ہے جبکہ ہمارے دینی کتب اردو میں تحریر ہیں۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو انگریزی میڈیم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی اور اردو کا بھی خاص اہتمام کریں۔انہوں نے کہاکہ ہر گھر میں کم از کم ایک اردو اخبار ہونا چاہیے تاکہ گھر والوں کو اردو پڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب اردو زبان صرف بولنے کے حد تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔اس موقع پر شاہد مسعود نے اردو کے چند اشعار تحت اور ترنم میں پیش کیا جس کی سامعین نے خوب داد دی۔ ڈاکٹر انیس احمد صدیقی نے صدارتی خطاب میں کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلی اقدار کی حامل اردو کے تہذیبی روایات کے پاسدار،تخلیق کار اور فن کار،صحافی اور اساتذہ کی قدر کی جائے۔انہوں نے کہاکہ آج کی نسل نو کو اردو سیکھتے ہوئے اس کے فروغ کے لئے اقدامات کرنے چاہیے۔

اردو کے مختلف پروگرامس کئے جائیں۔بعد ازاں مشاعرہ کا آغاز ہوا۔معزز مہمان شعراء کرام ظہیر کانپوری (کانپور اتر پردیش)، خورشید فاروقی (برہان پور مدھیہ پردیش)، شکیل ظہیر آبادی (حیدر آباد)، شبیر علی خان اسمارٹ کے علاوہ میز بان شعرائے کرام، مسعود مرزا محشر،ڈاکٹر انیس احمد صدیقی، اقبال درد،پروفیسر احمد حسین خیال، وحید گلشن، حمید عکسی، داؤد اسلوبی، امیر الدین امیر، خواجہ کیفی نے اپنا کلام پڑھ کر سامعین سے خوب داد تحسین حاصل کی۔اس موقع پر تمام شعراء کی تہنیت کی گئی۔اس موقع پر محمد عبداللہ محمدی،محمد عبدالحکیم،ایم اے نعیم،علیم دانش،منور الدین،معشوق شریف،مرزا فتح اللہ بیگ ریاض،سید نظام الدین،اکرم رزاق،سید صادق حسین،محمد مبشر،محمد محی الدین،ساجد پاشاہ، محمد عبدالقہار، شرف الدین محمودی،خواجہ ناظم الدین، محمد شکیل مامنور،محمد بابر،محمد راشد، اور دیگر کے علاوہ سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔حافظ سید صادق حسین کی دعاسے مشاعرہ کااختتام ہوا۔

News Source : Aleem Danish