Jamiat Ulema Telangana welcomes the announcement of legislation against hate speech: President Hazrat Maulana Shah Syed Ehsanuddin
(اپنا ورنگل)
جمعیت علماء تلنگانہ کے صدر حضرت مولانا شاہ سید احسان الدین صاحب نےمیڈیاسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2023 سے قبل جمعیت علماء نے کانگریس پارٹی کی تائید سے پہلے متعدد اہم اور عوامی مفاد سے متعلق مطالبات پیش کیے تھے، جن میں سب سے نمایاں مطالبہ ہیٹ کرائم اور ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت اور مؤثر قانون سازی کا تھا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے کیوں نہ ہو انہوں نے بتایا کہ انتخابات سے قبل جمعیت علماء کے ایک وفد نے کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی سے ملاقات کی تھی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ جہاں کہیں بھی کانگریس پارٹی کی حکومت قائم ہو، وہاں نفرت انگیز جرائم اور اشتعال انگیز تقاریر کے سدِباب کے لیے سخت قانون نافذ کیا جائے، بالخصوص تحسین پونا والا کیس کے عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر واضح اور جامع قانون سازی کی جائے صدر جمعیت علماء نے کہا کہ اسی سلسلے میں گزشتہ شب حیدرآباد کے لال بہادر اسٹیڈیم میں منعقدہ کرسمس تقریب کے دوران تلنگانہ کے چیف منسٹر جناب ریونت ریڈی کی جانب سے مذہبی توہین اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون سازی کے اعلان کا جمعیت علماء خیر مقدم کرتی ہے۔
انہوں نے چیف منسٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مجوزہ بل جلد از جلد تلنگانہ اسمبلی میں پیش ہو کر منظور کیا جائے گا اور ریاست میں باہمی رواداری، امن و امان اور بھائی چارے کے فروغ میں معاون ثابت ہوگامولانا شاہ سید احسان الدین صاحب نے مزید کہا کہ جمعیت علماء ہمیشہ سے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی انصاف کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے، اور نفرت پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہےانہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ جمعیت علماء کے تمام مطالبات دراصل جماعت کے سابق صدر حضرت حافظ پیر شبیر احمد صاحب مرحوم کی فکر، بصیرت اور جدوجہد کا تسلسل ہیں۔
آخر میں انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔اس پریس کانفرنس میں مولانا خواجہ ضیاء الدین، مولانا عبدالرحمن، مولانا اکبر خان اسعدی ، ڈاکٹر عبدالحفیظ خان ۔مولانا یاسیر حسین ، مولانا عبد السمیع ، حافظ عتیق الرحمن بیگ، مفتی سہیب، مولانا ضیاء الدین رشیدی، حافظ فرقان ، حافظ شمش الدین، حافظ ایوب، مزمل اور دیگر موجود تھے۔

News Source : Agency

