کارنجہ متاثرین کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے، مقررہ مدت میں معاوضہ جاری ہو: ایشور کھنڈرے سے متاثرین کمیٹی کا دوٹوک مطالبہ

Injustice towards the victims of the massacre should be ended, compensation should be released within the stipulated time: Victims’ Committee’s categorical demand to Ishwar Khandre

(اپنا ورنگل)

بیدر :
کارنجہ ڈیم کی تعمیر سے متاثرہ خاندانوں کو انسانی ہمدردی،کی بنیادوں اور منصفانہ معیار کے تحت مکمل اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق متاثرین کو فوری اور مقررہ مدت میں معاوضہ کی رقم جاری کی جائے۔ یہ پرزور مطالبہ کارنجہ ڈیم متاثرین کے حقوق کے تحفظ کی کمیٹی نے کیا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ کارنجہ متاثرین گزشتہ کئی برسوں سے اپنے جائز حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

متاثرین کی اس طویل تحریک کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے علاقائی کمشنر کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے متاثرین کے نقصانات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اپنی باضابطہ رپورٹ دسمبر 2025 کے اختتام پر ریاستی حکومت کو پیش کر دی ہے، جو اب حکومت کے پاس زیر غور ہے۔اسی پس منظر میں اتوار کے روز کارنجہ ڈیم متاثرین کے حقوق کے تحفظ کی کمیٹی اور بیدر ضلع ہمہ جہتی ترقی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے صدر چندر شیکھر پاٹل ہوچکنّلی کی قیادت میں ایک وفد نے بھالکی میں واقع ضلع انچارج وزیر و ریاستی وزیر جنگلات جناب ایشور کھنڈرے کی رہائش گاہ پر حاضری پہونجکر ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔

یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مزید تاخیر کے بغیر کمیٹی کی رپورٹ پر عمل درآمد کرے اور متاثرین کو ان کا حق دلائے۔وفد نے اس موقع پر زور دیا کہ وزیر اعلیٰ سمیت متعلقہ وزراء اس حساس مسئلہ پر خصوصی توجہ دیں اور کارنجہ متاثرین کے ساتھ جاری ناانصافی کا مستقل حل نکالیں۔

متاثرین کی عرضداشت وصول کرتے ہوئے ضلع انچارچ وزیرجناب ایشور کھنڈرے نے کہا کہ وہ کارنجہ متاثرین کے مسئلہ سے بخوبی واقف ہیں اور اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے مثبت اور سنجیدہ اقدامات کریں گے۔اس موقع پر راجپا کملپورے، ڈاکٹر راج شیکھر رنجول، مادپا کاؤدے، یوسف میاں ریکلگی، محمد سولاپورے، مہیش کملپورے، چندر شیکھر متّنّا، شنکرپا مولگی، شریمتی لکشمی کاؤدے سمیت بڑی تعداد میں متاثرین اور سماجی نمائندے موجود تھے۔

News Source : M.A. Samad Manju wala