جمعیتہ علماء شمالی آندھراپردیش کی مجلس عاملہ و منتظمہ اور مدعوين خصوصی کا اہم مشاورتی اجلاس اور تقرر شده ذمه داران کا اعلان ۔

Important consultative meeting of the executive council and organizers of Jamiat Ulema North Andhra Pradesh and special invitees and announcement of the appointed officials

(اپنا ورنگل)

وجئے واڑہ :

جمعیتہ علماء آندھراپردیش شمال بمقام دفتر جمعیتہ علماء اسٹیڈی سنٹر مغل راج پورم وجئے واڑہ الحمد لله ثم الحمد لله جمعیتہ علماء شمالی آندھرا پردیش کے زیر اہتمام ایک اہم اور تاریخ ساز نظیمی اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا٬ اس اجلاس میں جمعیتہ علماء کے ریاستی اکابرین نے شرکت فرمائی۔ اجلاس کا مقصد جمعیت کے نظام کو مزید مضبوط منظم، مربوط اور فعال بنانا تھا، نیز آنے والے دور میں تحریک جمعیت کو نئی سمتیں فراہم کرنا بھی اسی مشاورت کا اہم حصہ ہے۔ حضرت مولانا حسین احمد مظاهری دامت برکاتہم العاليه نائب صدر جمعیتہ علماء آندھرا پردیش نے نہایت بصیرت افروز اور تفصیل سے بھر پور خطاب فرمایا آج ہم سب کے یہاں بیٹھنے کا سارہ سہرہ پاسبان ملت جناب الحاج حافظ پیر شبیر احمد صاحب رحمت اللہ علیہ کو جاتا ہے جن کی محنتیں اور قربانیوں کی بدولت آج ہم سب جمعیت سے جڑے ہوئے ہیں۔

الیکشن کے بعد تنظیمی اجتماعیت کی بقا اور جمعیتہ علماء کے کاموں کو مستحکم کرنے کے لئے آندھرا پردیش میں جمعیت کو در پیش حالات و تجربات پر خصوصی روشنی ڈالی۔ حضرت نے بتایا کہ جمعیت کا تنظیمی نظام ایک تدریجی سفر ہے، جس میں ذمہ داریاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لیکن جمعیتہ کی اصل طاقت اخلاص عمل اور مسلسل جد و جہد ہے۔ حضرت نے کارکنان کو تاکید فرمائی کہ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اصل چیز کام ہے۔ جمعیت کو نام والے نہیں، کام کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ آپ نے تمام ذمہ داروں کو جمعیت کے ساتھ مربوط رہ کر کام کرنے، اور اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی خصوصی تاکید فرمائی۔صدر محترم حضرت مولانا محمد الياس صاحب جامعي دامت برکاتہم صدر جمعیتہ علماء شمالی آندھرا پردیش نے اپنے جامع اور مدلل خطاب میں فرمایا کہ جمعیت کے مختلف اہم شعبوں اور ان کی ضرورت و افادیت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔

حضرت نے حالات حاضرہ کا جائزہ لیتے ہوئے کارکنان کو متنبہ کیا کہ ملک کے حالات نازک ہیں، اور ایسے وقت میں اتحاد، اتفاق ، حکمت اور منظم جدو جہد کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ آپ نے فرمایا: “ ملک جل رہا ہے ؟ ایسے وقت میں متحد ہو کر، اتفاق کے ساتھ، اپنے اکابر کی ہدایات پر چلتے ہوئے کام کرنا ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔ صدر محترم نے اس بات پر زور دیا کہ جمعیت صرف عہدوں کی تنظیم نہیں، بلکہ ایک تحریک، ایک ذمہ داری اور ایک امانت ہے، مختلف شعبہ جات کے لیے مقرر کیے گئے ذمہ داران مشاورتی نشست میں جمعیت کے مختلف شعبوں کی مضبوطی کے لیے درج ذیل ذمہ داروں کا تقرر بحیثیت ناظم و نائب ناظم شمالی آندھرا پردیش کیا گیا۔

جمعیتہ علماء شمالی آندھرا پردیش کے سیکریٹری: قاضی سید عبدالرحیم صاحب قاسمی۔ جمعیت اسٹڈی سینٹر اوپن اسکول ناظم: آندھرا پردیش مولانا محمد اسماعیل صاحب قاسمی گنٹور۔ دینی تعلیمی بورڈ: محمد عابد قاسمی صاحب چیرالہ ضلع با پٹلہ۔ شعبہ اصلاح معاشره کے ناظم: مولانا امیر الحق صاحب قاسمی دامت برکاتہم و نائب ناظم: مفتی عرفان صاحب اسعدی۔ جمعت يوتھ کلب کے ناظم: مولانا مشتاق معدنی صاحب نیلور و نائب ناظم مفتی صہیب صاحب جامعی و حافظ عبدالعلیم صاحب۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم: مفتی معین صاحب قاسمی۔ شعبہ ماڈل ولیج کے ناظم; مفتی غلام مصطفیٰ صاحب نندی یال۔

جيم (JAM) کے ناظم; حافظ نیاز احمد صدیقی صاحب و حافظ عبد الصمد صاحب جگیا پیٹ۔ لیگل سیل کے لیے مقرر وکلاء: شیخ محبوب سبحانی صاحب ستن پلی٬ جناب شیخ سلیم صاحب گنٹور و جناب ایڈوکیٹ خالد صاحب وجئے واڑہ٬ یہ حضرات جمعیتہ علماء شمالی آندھرا پردیش کے ریاستی لیگل سیل میں اپنی قانونی خدمات انجام دیں گے۔ اس اجلاس میں ضلع کرشنا، این ٹی آر مشرقی گوداوری٬ مغربی گوداوری کے علاوہ اور دیگر شهری زمداران شریک رہے۔ مفتی نعیم صاحب جامعی صدر جمعیتہ علماء سری کالہ ہستی کی دعاء سے مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

News Source : Agency