Immediate action should be taken against the construction of a multi-storey building in Musi River, discrimination in matters of law and justice is unacceptable: K Kavita
![]()
(اپنا ورنگل)
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے موسیٰ ندی میں تعمیر کی جارہی بلند و بالا عمارتوں پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ جہاں دریا کے اندر کثیر منزلہ عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں وہیں متعلقہ حکام کو کچھ دکھائی نہیں دیتا لیکن غریبوں کے مکانات مسمار کرنے میں غیر معمولی مستعدی دکھائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قطب اللہ پور میں غریب عوام کے مکانات گرائے گئے، کھمم کے ویلوگمٹلا علاقہ میں 600 غریب خاندانوں کے مکانات منہدم کئے گئے اور موسیٰ ندی کے اطراف بھی کئی غریبوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا، مگر اسی موسیٰ میں زیر تعمیر اس بڑی عمارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ عہدیدار رنگناتھ سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کلکٹرس کانفرنس میں مصروف ہونے کی بات کہی۔ کویتا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک بلڈوزر یہاں نہیں لائے جاتے اور کارروائی نہیں ہوتی، وہ مقامی عوام کے ساتھ وہیں موجود رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ جھیلوں اور ندیوں پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف عوامی مہم کے تحت متعدد شکایات درج کرائی گئی ہیں، مگر اب تک کسی بھی شکایت پر کارروائی نہیں ہوئی۔ گاندھی سروور پروجیکٹ کے نام پر شہر کے مدھوراج اپارٹمنٹ کے مکینوں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے، حالانکہ یہ اپارٹمنٹ تقریباً بیس برس قبل تعمیر کیا گیا تھا اور متوسط طبقہ کے افراد نے محنت کی کمائی سے وہاں فلیٹس خریدے ہیں۔
کویتا نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں ان تعمیرات کی اجازت دی گئی تھی، کانگریس حکومت کے قیام کے بعد چھ ماہ تک کام روکا گیا، لیکن بعد میں مبینہ طور پر لین دین کے بعد دوبارہ اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی کسی بھی فرد سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں، بلکہ ان کا اختلاف حکومت کی پالیسی سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد صرف یہ ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہو اور انصاف میں کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔ کویتا نے عزم ظاہر کیا کہ موسیٰ ندی اور تلنگانہ کے قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے ان کی تحریک ہر صورت جاری رہے گی۔
NEws Source : M.F. Baig Riaz

