ترقیاتی کام نہیں ہوں گے تو شمالی کرناٹک کی علیحدگی ممکن ہے:کانگریسی قائد اشوک کھینی۔

If development works are not done, separation of North Karnataka is possible: Congress leader Ashok Kheni

(اپنا ورنگل)

بیدر :

ترقیاتی کام اگر نہیں ہوں گے تو شمالی کرناٹک کو علیحدہ ریاست بناناپڑے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے تلنگانہ ریاست بنائی گئی۔ ہماری ریاست کرناٹک کی پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں ایک اور ریاست تلنگانہ کے نام سے تیلگو زبان کی بنیادپر بنائی گئی ہیں۔ اور اس کے پیچھے وہی فیکٹر رہا۔ یعنی ایک علاقہ خوب ترقی کررہاہے دوسرا علاقہ ترقی کے معاملے میں پیچھے ہے۔ خود کرناٹک کو بھی دیکھ لیں، اگر کوئی ترقیاتی کام کیاجاناہے تو وہ صرف اور صرف بنگلور کے حوالے کردیاجاتاہے۔ جب کہ ترقی پوری ریاست کے تمام اضلاع کرنا چاہیے۔ یہ باتیں سابق رکن اسمبلی اور کانگریسی قائد جناب اشوک کھینی نے کہی۔ وہ ٹیلی فون پر بات کررہے تھے اور مختلف سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ موصوف نے بتایاکہ بیدر میں انٹرنیشنل اسٹیڈیم کے قیام کانظریہ میراتھا۔

جس کو ایشورکھنڈرے اپنی سیاسی کرم بھومی بھالکی کیلئے اُچک لے گئے۔ میں نے وہ اسٹیڈیم بیدر میں تعمیر کرنے کی بات کی تھی۔کیوں کہ بیدر سے حیدرآبا دائرپورٹ نہایت ہی قریب ہے۔ وہ اس کو اور دورلے گئے۔ایک اور سوال کے جواب میں اشو ک کھینی نے بتایاکہ ضلع پنچایت انتخابا ت میں تاخیر سے فنڈ بیوروکریسی اور سینئر سیاست دانوں کے ہاتھ میں رہ جائے گاجس کا اثر جمہوری نظام پر پڑے گا۔ موصوف نے کمٹھانہ اور منااکھیلی گرام پنچایتوں کوپٹن پنچایت بنانے کاسہر اپنے سر باندھتے ہوئے کہاکہ میں نے ہی اس سلسلے میں کام کیاہے۔ جب کہ بنڈپاقاسم پور ایم ایل اے ہوتے ہوئے بھی اس طرف توجہ نہیں دے سکے۔آج بھی میں بنگلور میں رہ کر بیدر جنوب اسمبلی حلقہ کے لئے کام کررہاہوں۔ عنقریب اور زیادہ فنڈ بیدر جنوب کومیری کوششوں سے حاصل ہوگا۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سیٹلائٹ کیمپس بیدر کے بارے میں بات کرتے ہوئے اشوک کھینی نے کہاکہ میں نے بیدر جنوب میں کیمپس کے لئے اراضی دینے کی آفر کی تھی لیکن کچھ بھی نہیں ہوسکا۔ آج تک بھی مولانا آزاد سیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر کاکام پیچھے ہے بلکہ شروع ہی نہیں ہوسکاہے۔ اشو ک کھینی نے بتایاکہ جہاں ضلع پنچایت انتخابات کو روکے رکھنا غیر قانونی ہے وہیں بغیر پلاننگ کے رقم تقسیم کرنابھی غیرقانونی ہے۔ یہی کام ضلع بیدر میں ہورہاہے۔ ماسٹرپلان کے بعد ہی کسی علاقے کو رقم آتی ہے اور وہ علاقہ ترقی کرتاہے۔

News Source : M.A. Samad Manju wala