I Am unable to feed when my son is living, unable to bury him after his death – Emotional speech by father
’’جب وہ زندہ تھا تو مناسب کھانا بھی نہیں کھلا سکا، اب مرنے کے بعد اس کی آخری رسومات بھی ادا نہیں کرسکا۔
(اپنا ورنگل)
محبوب نگر میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک غریب باپ اپنے بیٹے کی آخری رسومات کے لیے رقم نہ ہونے کے سبب 8 گھنٹے تک بیٹے کی لاش کو گود میں لئے شمشان گھاٹ پر بیٹھا روتا رہا۔تفصیلات کے مطابق پریم نگر علاقہ کے رہنے والے بال راج ایک کاٹن مل میں مزدوری کرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں مل بند ہونے کے باعث ان کی روزی روٹی ختم ہوگئی۔
معاشی تنگی کے سبب ان کی بیوی معذور بڑے بیٹے اور شوہر کو چھوڑ کر چھوٹے بیٹے کے ساتھ مائیکے چلی گئی۔بال راج مقامی ہوٹل میں مزدوری کرکے اپنے 8 سالہ معذور بیٹے ہریش کی پرورش کررہے تھے، مگر بدقسمتی سے ہریش طویل بیماری کے باعث چل بسا۔ غریب باپ کے پاس آخری رسومات کے لیے رقم نہ ہونے کے باعث وہ گھنٹوں لاش کے ساتھ شمشان میں بیٹھا روتا رہا۔بال راج نے نم آنکھوں سے کہا کہ ’’جب وہ زندہ تھا تو مناسب کھانا بھی نہیں کھلا سکا، اب مرنے کے بعد اس کی آخری رسومات بھی ادا نہیں کرسکا۔
‘‘اس دردناک واقعہ کے بعد وی فاؤنڈیشن (We Foundation) نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے اس خاندان کی مدد کی اور بچے کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔یہ واقعہ معاشرے اور حکومت دونوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ضروری ہے کہ ریاست کے ہر قبرستان اور شمشان گھاٹ میں غریب اور بے سہارا افراد کے لیے باعزت تدفین و آخری رسومات کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ آئندہ کوئی والد ایسی بے بسی نہ دیکھے۔
News Source : Agency

