انسانیت شرما گئی:قبر سے نکالا گیا مردہ، زندوں کا ضمیر کب جاگے گا؟لنگر حوض قبرستان میں ظلم کی انتہا، تدفین کے بعد میت قبر سے نکال دی گئی

Graveyard Dispute Turns Inhumane in Hyderabad — Family Forced to Remove Body Days After Burial

"باپ کا جنازہ دفنانے کے بعد بیٹے کو ملا ناقابلِ یقین صدمہ”

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد :
شہر کے علاقے لنگر حوض میں واقع حضرت سید شاہ میرا حسینی قادریؒ کے قبرستان میں ایک انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جس نے عوامی احساسات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق ایک مرحوم کی تدفین کے بعد کچھ افراد نے قبر کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے میت کو قبر سے نکال دیا۔تفصیلات کے مطابق مراد نگر کے رہائشی قادر بن طاہر عرف التمش کے والد طاہر بن صابر کا انتقال 4 نومبر بروز منگل کو ہوا۔ تدفین کے لیے ان کی میت کو لنگر حوض قبرستان لایا گیا، جہاں کے ذمہ دار محمد احمد پاشاہ نے قبر کی نشاندہی کی اور تدفین عمل میں لائی گئی۔

تاہم 6 نومبر کو جب مرحوم کے اہلِ خانہ قبر کی زیارت کے لیے پہنچے تو وہاں گولکنڈہ سے آئے کچھ افراد موجود تھے، جن میں عتیق احمد رضا نامی شخص بھی شامل تھا۔ عتیق احمد رضا نے اعتراض کیا کہ جس قبر میں طاہر بن صابر کو دفن کیا گیا ہے وہ ان کے نانا کی قبر ہے جو 1983 میں وفات پا گئے تھے۔اس گروپ نے مرحوم کی میت کو قبر سے نکالنے کا دباؤ ڈالا، جس کے بعد معاملہ پولیس اسٹیشن تک پہنچ گیا۔

ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر بااثر افراد کے دباؤ اور ایک تحریری معاہدے کے نتیجے میں میت کو قبر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔یہ واقعہ عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ شہریوں اور مذہبی رہنماؤں نے اس اقدام کو شریعتِ اسلامی، انسانی اقدار اور اجتماعی ضمیر کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکام اعلیٰ سطح پر تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

News  Source : Agency