For the first time in history, a one-day national Arabic seminar was held in Kalyan, Karnataka
(اپنا ورنگل)
بیدر :
گلبرگہ میں رحمانیہ لائف انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام اور الافادہ عربی جرنل کے تعاؤن سے ایک روزہ قومی سمینار بعنوان “The Arabic-Islamic Intellectual Tradition & South India: Networks, Texts, and Links” منعقد ہوا۔ یہ سمینار انجمن اردو کانفرنس ہال، گلبرگہ میں منعقد کیا گیا۔سمینار کی صدارت مولانا شہاب الدین نظامی نے کی۔ افتتاحی خطاب میں مولانا محمد نوح ریاستی جنرل سیکرٹری انڈین یونین مسلم لیگ نے کہا کہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ علاقہ کلیان کرناٹک میں عربی زبان پر ایک روزہ سیمینار منقد کیا گیا ہے۔
انہوں نے رحمانیہ لائف انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رحمانیہ لائف انسٹی ٹیوٹ نیا محلہ گلبرگہ میں گزشتہ تین سالوں سے دینی و عصری تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے انہوں نے کہا کہ رحمانیہ لائف انسٹی ٹیوٹ میں اساتذہ کرام جن کا تعلق کیرلا سے ہے وہ یہاں پر گزشتہ تین سالوں سے عصری دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں انگریزی علاقائی زبان اور عربی زبان پر بچوں کو تربیت دے رہے ہیں رحمانیہ لائف انسٹی ٹیوٹ علاقہ حیدرآباد کرناٹک میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند خصوصاً دکن کی سرزمین ہمیشہ سے عربی و اسلامی علوم کا مرکز رہی ہے اور ایسے علمی پروگرام نئی نسل میں تحقیقی ذوق پیدا کرتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید باقوی نے کہا کہ اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ مدارس اسلامیہ اسلام کے قلعہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے جب بھی وہ مدارس سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اپنے اپنے شہروں اور اپنے علاقوں کے اندر مدارس دینیہ مدارس عربیہ اور مدارس اسلامیہ کا قیام کیا انہی میں سے ایک دارالعلوم باقیات الصالحات ویلور ہے جہاں سے فارغ علماء کرام نے نہ صرف ملک کی مختلف ریاستوں میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی علم دین کی خدمت کر رہے ہیں۔پروفیسر عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اردو خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ نے کہا کہ جامع نظامیہ مولانا انوار اللہ فاروقی نے تقوی کی بنیاد پر جو مدرسہ قائم کیا تھا وہاں کافی علماء کرام فارغ التحصیل ہوئے۔
مولانا انوار اللہ فاروقی رحمت اللہ علیہ عربی زبان میں کافی مہارت حاصل تھی لیکن عوام چونکہ اردو زبان جاننے والوں والے زیادہ تھے تو انہوں نے زیادہ تر کتابیں عربی زبان میں لکھی شاعری کا جہاں تک تعلق ہے انہوں نے اردو میں بھی شعر کہیں فارسی، عربی میں بھی شعر کہے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جامعہ نظامیہ کے کتب خانے میں دو قدمی نسخے رکھے گئے ہیں آج بھی آپ جا کر وہاں دیکھ سکتے ہیں۔جامعہ نظامیہ اور اس کے علما نے عربی زبان کی تدریس، تصنیف اور تحقیق کے میدان میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور آج بھی ان خدمات کے اثرات جنوبی ہند کے علمی حلقوں میں نمایاں ہیں۔
ڈاکٹر محمد شریف حسنی کیرلا نے اس سیمینار میں اپنا مخالف پیش کرتے ہوئے کہا کہ تصوف علم ایک اہم اور ضروری ہے جس کو ہر ادارے میں پڑھایا جانا چاہیے موجودہ دور میں تعلیمی نظام میں تصوف کی کتابوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔عبد الحمید باقوی نے کہا کہ دارالعلوم باقیات الصالحات، ویلور، نے عربی علمی ورثے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور جنوبی ہند میں اس کے فکری اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر مولانا شبیر حسنی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیرالا کا مربوط اسلامی تعلیمی ماڈل دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج کی ایک کامیاب مثال ہے، جس سے ملک کے دیگر تعلیمی ادارے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
مفتی محمد اویس قادری نے کہا کہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی عربی تصانیف اور علمی خدمات اسلامی علمی روایت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے علمی ورثے پر تحقیقی کام وقت کی اہم ضرورت ہے۔مولانا غلام محمد اشرفی نے کہا کہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ اور دارالعلوم بندہ نوازیہ نے حیدرآباد-کرناٹک (دکن) خطے میں دینی اور عربی علوم کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔اسامہ رحمانی نے بھی اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے جنوبی ہند میں عربی و اسلامی علوم کے تحقیقی امکانات پر روشنی ڈالی۔سمینار میں علما، اساتذہ، inمحققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
قومی سمینار حافظ محمد سحل کیرالہ کی قرأت سے آغاز ہوا اور نعت خوانی کا شرف مولانامحمد مشتاق رحمانی نظامت کے فرائض فجرالدین رحمانی کیرالہ نے انجام دیے۔ آخر میں مولانا صلاح الدین رحمانی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
News Source : M.A. Samad Manju wala

