Don’t do politics with Quranic verses, stop singing Non Muslim dances
(اپنا ورنگل)
امتیاز جلیل صاحب سے درخواست کروں گا کہ اپنی سیاست کے لیے قرآن مجید کی آیات کا استعمال نہ کریں یہ توہین اور سخت بے ادبی کی بات ہے کہ آپ الیکشن کے دوران تو لکھیں کہ ٫ نصر من اللہ و فتح قریب ” اور جب کارپوریشن کے معمولی سے الیکشن کا رزلٹ آجائے تو آپ بےدین آوارہ گردوں کی طرح ناچنے گانے لگ جائیں گے اتنے بدمست ہو جائیں کہ ہندوؤں کی طرح رنگ و گلال کا ناچ کرنے لگ جائیں، یہ نہایت غیر مناسب اور غیر اسلامی طرز ہےیا تو آپ اپنے سیاسی کیرئیر میں اسلام اور قرآن مجید کا لاحقہ نہ لگائیں اور پھر جو چاہیں کریں ہم کچھ نہیں کہتے لیکن ایک طرف آپ اسلام اور قرآن کا سہارا لیں اور دوسری طرف ہندوانہ جشن منائیں، بدتہذیبی اور آوارہ گفتاری کریں یہ ناقابلِ قبول ہےا۔سننے میں آیا ہے کہ کارپوریشن الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے اس بدتہذیبی کے ناچ گانے کے علاوہ اپنے مخالفین کو دھمکیاں بھی دی ہیں مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے ان لوگوں پر اور ان کی کم ظرفی پر ابھی ایم پی اور ایم ایل اے کے الیکشن میں ان کا جو حال ہوا تھا وہ کتنی جلدی بھول گئے ؟
کتنے کم ظرف ہیں یہ غبارے
چند پھونکوں سے پھول جاتے ہیں
یہ علامات خود اللہ کے یہاں بڑی ناپسندیدہ ہیں کہ ذرا سی فرحت پر حدودِ شرعیہ سے باہر نکل کر اترانے لگ جاؤ ایسی ہی اتراہٹ پر اللہ ربّ العزّت کی طرف سے گرفت آتی ہے اور اندر کی تمام سیٹنگ و حساب کتاب سب الٹے پڑجاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے ۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ اورنگ آباد شہر جوکہ اولیاء اللہ اور شرفاء اسلام کا مسکن و مرکز رہا ہے وہاں سے ایک شخص اسلام و قرآن مجید کے نام پر سیاست کے لیے اٹھتا ہے اور ہندوانہ جشن و آوارہ زبان کے ذریعے اترانے لگتا ہے
اور پچھلے کئی الیکشنوں سے وہ صاحب ہر الیکشن کے دوران شہر میں مسلمانوں کے درمیان انتہاپسندانہ تفریق و دشمنی کا سبب بنا ہوا ہے لیکن وہاں کے علماء شرفاء اور تاریخِ اورنگ آباد سے نسبت رکھنے والے ذمہ دار مسلمان اس پر تماشا دیکھتے رہتے ہیں یہ بہت ہی افسوسناک ہے، البتہ اس بابت ہمیں اورنگ آباد شہر کے ایک متحرک و بیدار مغز نوجوان ملّی کارکن برادر سلیمان شاہین کا مضمون نظر نواز ہوا جس سے تھوڑی تسلی ہوئی کہ کچھ تو رمقِ عالمگیری ابھی باقی ہےا۔
اللہ تعالیٰ اس نوجوان کی دردمندی کو شرفِ قبولیت عطاء فرمائے اس میں برکت نازل فرمائے، ورنہ اگر اورنگ آباد شہر ایسی ہی سیاست کی بھینٹ چڑھا رہا تو یاد رکھیں کہ علم و تخلیق اور ادب و ثقافت اور تاریخی عظمت کی جگہ شورشرابہ اور ہلڑ بازی کل کو برسر اقتدار ہوسکتی ہے کیونکہ نوجوانوں کو ایسی ہلڑ بازی کا عادی بنانا نسبتاً آسان ہے اگر روک ٹوک نہ رہی تو یہ ہلڑ بازی بزرگوں اور دانش وروں کا بستر لپیٹ دے گی اور یہ نقصان دہ ہوگا۔
یا تو نرے سیاستدان بنو پھر کوئی بات نہیں اور اگر قرآن مجید کا حوالہ دے کر سیاست کرنا ہے تو اس کے آداب کا خیال رکھو۔ ہم آپکی کامیابی کے ساتھ ساتھ آپ میں اسلامی آداب قرآنی کردار اور ایمانی اخوت کے لیے دعا گو ہیں ۔
✍️: سمیع اللہ خان

