Closeness to God is possible only through the teachings of the saints of God, His Holiness Hafiz Syed Muhammad Ali Al-Hussaini Sahib Qibla’s address to the Sufi Sunnah Conference
(اپنا ورنگل)
بیدر :
شہنشاہ دکن حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز ؒ کی بارگاہ میں کوئی مرید ہونے کی نیت سے پہنچتا تو آپ ؒسب سے پہلے اُس کی تربیت فرماتے، جب اُس شخص کی تربیت مکمل ہوجاتی اُس کے بعد ہی مرید بنایا جاتا تھا۔ تصوف میں سب سے اہم شریعت کی پابندی ہے،یعنی سارے فرائض کو انجام دینا اور اسلامی قوانین کی مکمل پاسداری کی جائے۔اولیا اللہ نے آقائے نامدار مدینہ کے تاجداحضور اکرم ﷺکی جن تعلیمات کو ہم تک پہنچایا ہے اُن تعلیمات کے ذریعہ ہی اللہ کی قربت حاصل کی جاسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار تقدس مآب حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ، چیرمین کرناٹکا وقف بورڈو چانسلر کے بی این یونیورسٹی گلبرگہ نے کیا۔
وہ کل رات سرزمین بسواکلیان کے الفا میدان میں عظیم الشان صوفی سنت کانفرنس کو خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر اُنہوں نے مزید کہا کہ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ؒ کی بارگاہ میں ایک شخص پہنچا اور اُس نے گذارش کی کہ حضور میں آپ کے سلسلہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں، آپ ؒ نے اُس شخص کو سلسلہ میں شامل ہونے کیلئے جن جن عبادات کوکیا جانا ضروری ہے سب بتایا،جس کے بعد اُس شخص نے کہا کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے میں ایک جگہ خلوت میں بیٹھ کر ان عبادات مکمل کرلوں گا۔حضرت نظام الدین اولیا ؒنے فرمایا کہ ایسے عبادت نہیں کی جاسکتی، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رہ کر اور اس دنیا کی لذتوں کے ساتھ عبادات کو انجام دینا کوہی اصل عبادت قرار دیا ہے۔
صوفیائے کرام ہمیشہ تزکیہ نفس کی صفائی پر زیادہ توجہ رکھتے تھے، انسان کانفس اُسے دنیا وی خواہشات اور برے کاموں کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ تزکیہ نفس پر حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تصوف میں سب سے پہلا کام نفس کی صفائی کا ہوتا ہے، نفس کی صفائی کیلئے اپنی انا کو ختم کرنا اور صبر اختیار کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ نفس انسان میں نئی نئی خواہشات کو پیدا کرتا ہے ان خواہشات کے برعکس دین کے کام کرنے سے نفس کی صفائی ہوتی ہے۔
اس موقع پر حضرت سجادہ نشین قبلہ نے صبر کے متعلق آقائے نامدار مدینے کے تاجدار حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے صبر آموز واقعہ کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ ”حضور اکرم ﷺمکہ میں کسی راستے سے ہمیشہ جایا کرتے تھے وہاں ایک خاتون ہمیشہ کھڑکی سے آپ ﷺ پرکچرا پھینکتی تھی،وہ خاتون آپ ﷺپر روزانہ کچرا ڈالتی لیکن آپ خاموشی سے چلے جاتے، کئی دنوں بعد کھڑکی سے کچرا نہیں گرنے لگا، تب آپ ﷺ نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہاں سے اب کچرا کیوں نہیں گر رہا ہے،
اور اُس خاتون کے متعلق خیریت دریافت کرنے کیلئے بھیجا، دریافت گذار نے آپ کو اُس عورت کے بیمار ہونے کی خبردی، جس کے بعدحضور اکرم ﷺاُس خاتون کے مکان پہنچ کراُس کی مزاج پرسی کی“۔حضرت قبلہ نے اس واقعہ کے ذریعہ یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ظلم سہنا الگ چیز ہے اور صبر کرنا الگ چیز ہے،یہ واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبر کیسے کیا جاتاہے۔
ایک اچھا مسلمان بہترین اخلاق و کردار کے ذریعہ ہی پہچانا جاتا ہے۔حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے سے کوئی آپ کو دور ہی سے پہچان لیگا اور کہے گا ”وہ ہے مسلمان“۔تقریر کی ابتداء میں صاحب قبلہ نے 1500ویں جشن عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد پیش کی اوراس عظیم الشان صوفی سنت کانفر نس کے انعقاد کیلئے کے پی سی سی کے کارگذار صدرسلیم احمد رکن کرناٹک قانون ساز کونسل اور اُن کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔
کانفرنس میں عالمی شہرت یافتہ مبلغ اسلام مولانا محمد عبید اللہ خان اعظمی صاحب سابق رکن پارلیمان، رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا ابو طالب رحمانی، ناصر حسین،عمران مسعوداراکین پارلیمان،ریاستی وزراءمحمد رحیم خان، ایشور کھنڈرے، محمد اظہر الدین وزیر اقلیتی بہبود تلنگانہ، راج شیکھر پاٹل سابق وزیر، چیرمین کے کے آر ڈی بی اجئے سنگھ کے علاوہ قومی و ریاستی سطح کے سیاسی، سماجی، روحانی شخصیات موجود تھیں۔کانفرنس کے آخر میں تقدس مآب حضرت حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ کومنصب سجادگی پر فائز ہونے اور چیرمین کرناٹکا وقف بورڈ منتخب ہونے پر تہنیت پیش کی گئی۔
News Source : M.A. Samad Manju wala

